.

یورینیم کی افزودگی کے حق کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا:ایران

ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان کسی معاہدے مِیں بڑی رکاوٹ عدم اعتمادی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:



ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں واضح کردیا ہے کہ اگراس کے یورینیم کو افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا،تو وہ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔

ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار عباس عرقچی نے جمعرات کو جنیوا میں مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ ان کا ملک یورینیم کی افزودگی کو معطل نہیں کرے گا اور ایسا کرنا اسلامی جمہوریہ کے لیے سرخ لکیر ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اپنا اعتماد کھو چکے ہیں،جب تک اعتماد بحال نہیں کیا جاتا ،اس وقت تک ہم سنجیدہ مذاکرات نہیں کرسکتے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مذاکرات کو روک دیں گے''۔

عباس عرقچی نے،جو ایران کے نائب وزیرخارجہ بھی ہیں،اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ اس وقت تک کوئی ڈیل نہیں کی جائے گی،جب تک اس میں ایران کے یورینیم کو افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم نہیں کرلیا جاتا''۔

انھوں نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ اعتماد کا فقدان ہے کیونکہ مذاکرات کے آخری دور میں یہی کچھ ہوا تھا''۔وہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان نومبر کے اوائل میں مذاکراتی دور کا حوالہ دے رہے تھے جس میں ان طاقتوں کی سخت شرائط کی وجہ سے ایران کے جوہری تنازعے پر کسی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت فریقین کے درمیان جوہری تنازعے کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔تاہم صبح (جمعہ کو) کسی ڈیل کا امکان ہے لیکن یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔انھوں نے مذاکرات میں شریک عالمی طاقتوں کے نمائندوں پر زوردیا ہے کہ وہ جذبہ خیرسگالی اور لچک کا مظاہرہ کریں۔

دوسری جانب ایران سے جوہری تنازعے پر مذاکرات کرنے والی چھے بڑی طاقتوں میں شامل فرانس نے مغرب پر زوردیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاملہ کاری میں پختہ عزم کا مظاہرہ کرے۔فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اسی ہفتے کوئی معاہدہ طے پاسکتا ہے لیکن ایسا کوئی سمجھوتا صرف پختہ عزم پر ہی مبنی ہوسکتا ہے۔

ادھرامریکا میں صدر براک اوباما کی انتظامیہ بعض ارکان کانگریس کو ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی منظوری دینے سے روکنے کی کوشش کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر نئی پابندیاں عاید کی جاتی ہیں تو اس سے جنیوا میں جاری مذاکرات کا عمل سبوتاژ ہوجائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نائب صدر جوبائیڈن نے ڈیموکریٹک سینیٹروں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا مقصد اس کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔