.

سوڈانی خاتون سماجی رہ نما کو کوڑوں کی سزا کا سامنا

تنازعہ خاتون کو سر ڈھانپنے کے حکم کی خلاف ورزی سے پیدا ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں سیاسی کشیدگی کے جلومیں انسانی حقوق کے اور ذرائع ابلاغ میں ایک خاتون سماجی کارکن کا تنازعہ بھی جلی سرخیوں کے ساتھ چھایا ہوا ہے۔ حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی ایک سول انجینیئر شہزادی عثمان کو پولیس کی جانب سے سر ڈھانپنے کے حکم کی مبینہ خلاف ورزی پر کوڑوں کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہزادی عثمان اور ایک پولیس اہلکارکے درمیان تلخ کلامی چند روز پیشتر خرطوم کی ایک شاہراہ پراس وقت ہوئی جب پولیس اہلکار نے اسے سر پر دوپٹہ نہ لینے پرسخت الفاظ میں ڈانٹا۔ پولیس اہلکار کی ڈانٹ کے باوجود شہزادی عثمان نے دوپٹہ لینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد معاملہ عدالت لے جانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہزادی عثمان نے ریاستی قانون کی دفعہ 152 کی خلاف ورزی کی ہے جس پر اس سے سخت مواخذہ ہو سکتا ہے۔ عدالت اسے شعائر اسلام کی توہین کے جرم میں کوڑوں کی سزا بھی دے سکتی ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے حلقوں نے پولیس کی جانب سے شہزادی عثمان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کے سرکردہ گروپوں کا کہنا ہے کہ پولیس کے الزام کی آڑمیں شہزادی عثمان کو حقوق نسواں کے لیے آواز اٹھانے سے روکنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

درایں اثناء شہزادی عثمان کی والدہ شہزادی فوزیہ المیرغنی نے بھی اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس ظالمانہ قانون کے تحت اس کی بیٹی کو جکڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اسی کے تحت آج تک دسیوں خاندانوں کو تکلیف پہنچائی جا چکی ہے۔ انہوں نے ملک میں انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سوڈان کے ایک مقامی ماہر قانون المعز حضرہ نے "العربیہ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسلامی فقہ میں کہیں بھی مخصوص لباس کا کوئی تصور نہیں ملتا ہے۔ سوڈان حکومت کی جانب سے لباس کے معاملے میں سختی کرنا ان کے لیے ناقابل فہم ہے۔