.

عالمی برادری شامی عوام کا کشت و خون روکنے میں ناکام ہو چکی: شاہ عبداللہ

عرب اور افریقا کے مشترکہ مقاصد میں ناکامی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شام میں صدر بشار الاسد کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے خلاف جاری ریاستی مظالم پرعالمی برادری کے کردار پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری مظلوم شامی عوام کا کشت وخون سے رکوانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین کا یہ خصوصی پیغام کویت میں ہونے والی افریقی یونین کی سالانہ کانفرنس میں وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے پڑھ کرسنایا۔ شاہ عبداللہ نے اپنے پیغام میں خلیجی اور افریقی ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ میں ناکامی کا بھی شکوہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج اور افریقا کی عرب اقوام اپنے مشترکہ مقاصد اور اہداف کے حصول میں ناکام رہے ہیں۔

بیان میں شام کے بحران کا خاص طور پر ذکرتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی برادری بشارالاسد کے مظالم کی روک تھام کے لیے موثرحکمت عملی وضع کرنے میں ناکام رہی ہے۔ شامی عوام اندرون اور بیرون ملک جس کسمپرسی کی حالت سے گذر رہے ہیں وہ نہایت المناک ہے۔ سعودی عرب، شامی عوام کے تمام جائز اورا ٓئینی مطالبات کی ہرسطح پرحمایت جاری رکھے گا۔

شاہ عبداللہ نے کہا کہ سلامتی کونسل عالمی سلامتی کا ایک ذمہ دار ادارہ ہے۔ ہم ماضی میں بھی سلامتی کونسل سے شام کے بحران کے حل کے لیے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر عالمی ادارے سے مطالبہ ہے کہ وہ شام کے مظلوم عوام کو بشارالاسد کی وفادار فوجوں کےمظالم سے نجات دلائیں۔

انہوں نے کویت میں ہونے والی افریقی یونین کانفرنس کے شرکاء کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ تیسری "کویت سربراہ کانفرنس" افریقا اور خلیجی عرب ملکوں کے درمیان تعاون بڑھانے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے، تاہم فریقین تین عشروں سے دونوں خطوں کے درمیان طے پائے مشترکہ مقاصد اور اہداف کے حصول تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہمیں جن اہداف کے حصول کی امید تھی انہیں ہرقیمت پرحاصل کرنا چاہیے۔