القاعدہ جنگجوؤں کا شام،ترکی سرحد پرواقع قصبے پر قبضہ

ریاست اسلامی عراق وشام کے جنگجوؤں نے اعتدال پسند باغی یونٹ کو نکال باہر کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے جنگجوؤں نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ایک شمالی قصبے پر قبضہ کر لیا ہے۔انھوں نے وہاں سے اعتدال پسند اسلامی باغی گروہ کو نکال باہر کیا ہے اور اس کے کمانڈر کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ہے۔

شامی کارکنان کی اطلاع کے مطابق ریاست اسلامی عراق اور شام (آئی ایس آئی ایل )سے وابستہ جنگجوؤں نے جمعہ کو أطما میں اعتدال پسند اسلامی جماعت صقورالاسلام کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بول دیا اور وہاں اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔انھوں نے گذشتہ اڑتالیس گھنٹے کے دوران قصبے کی شاہراہیں رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردی ہیں۔

آئی ایس آئی ایل کے جنگجوؤں نے صقورالاسلام کے سربراہ مصطفیٰ وضاح کو ان کے پچیس تیس ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق ان دونوں تنظیموں کے درمیان ہیڈکوارٹرز میں اور ترکی کی ایک سکیورٹی پوسٹ کے نزدیک مختصر جھڑپیں ہوئی تھیں۔

واضح رہے أطما کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ہونے کی وجہ سے شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے اس پر فضائی بمباری سے گریز کیا ہے جس کی وجہ سے اس قصبے کو نسبتاً محفوظ خیال کیا جاتا تھا اورشام کے دوسرے علاقوں سے اپنا گھربار چھوڑ کر آنے والے ہزاروں لوگوں نے اس قصبے اور اس کے نواحی علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

ایک کارکن نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ریاست اسلامی عراق اورشام کے جنگجوؤں نے قصبے کے مرکزی چوراہے میں طیارہ شکن توپیں نصب کردی ہیں اور اس نے بڑی خاموشی سے قصبے پر قبضہ کیا ہے۔

اس کارکن نے مزید بتایا کہ ترک سکیورٹی فورسز نے بھی آئی ایس آئی ایل کے جنگجوؤں کو سرحد کے آرپار آنے جانے سے نہیں روکا۔ان کے بہ قول مصطفیٰ وضاح کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے اور انھیں شاید آئی ایس آئی ایل کے ایک اور مضبوط گڑھ دانا میں منتقل کردیا گیا ہے۔اس قصبے میں اس تنظیم نے اپنی عدالتیں قائم کررکھی ہیں جہاں مشتبہ افراد کے خلاف سرسری سماعت کے بعد سزائیں سنا دی جاتی ہیں۔

سرحدی قصبے أطما پر القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے قبضے کو شامی باغیوں کے درمیان پھوٹ کا شاخسانہ قراردیا گیا ہے۔یہ قصبہ شامی باغیوں کو ہتھیار پہنچانے کے لیے ایک اہم گذرگاہ کے طور پر استعمال ہورہا تھا۔

صقورالاسلام شامی فوج کے خلاف برسرپیکار جیش الحر کا حصہ ہے لیکن اس تنظیم کے جنگجوؤں نے اس قصبے میں جیش الحر کی جنرل کمان کی جانب سے بھیجے گئے اسلحے کے سات ٹرکوں پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد جیش الحر اورصقورالاسلام کے درمیان کئی روز تک اسلحے پر قبضے کے لیے لڑائی ہوتی رہی تھی۔ اس صورت حال سے القاعدہ کے جنگجوؤں نے فائدہ اٹھایا ہے اور انھوں نے جیش الحر کے لیے تزویراتی اہمیت کے حامل اس قصبے پر بآسانی قبضہ کر لیا ہے۔

شام کے شمالی علاقوں میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیش نظر اب صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف مقامی باغیوں کی کارروائیوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی شامی صدر کی مخالفت میں کمی واقع ہورہی ہے اور اب مغربی ممالک اس طرح زورشور سے شامی صدر سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں جس طرح کہ وہ پہلے کررہے تھے بلکہ اب وہ قریب قریب اس مطالبے سے دستبردار ہوتے نظر آرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں