جامعہ الازہر مظاہرے، سکیورٹی فورسز کے اختیارات میں اضافہ

فلسطینی شہریوں کو شہریت دینے کا بھی ازسر نو جائزہ لیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی عبوری حکومت نے پولیس کو اختیار دے دیا ہے کے اسے جب ضرورت محسوس ہو مصر کی سب سے بڑی جامعہ الازہر میں بغیر اجازت داخل ہو کر طلبہ کے مظاہروں سے نمٹ سکتی ہے۔

پولیس کو یہ اختیار دو روز قبل ہونے والے طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے بعد دیا گیا ہے، جن میں پولیس سے ٹکراو کے بعد طلبہ کے ہلاک ہونے کی خبریں آئی تھیں۔ واضح رہے تین جولائی کے بعد طلبہ کے مظاہرے مستقل حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔

اس سے پہلے عام جامعات اور تعلیمی اداروں کی طرح پولیس کو جامعہ الازہر میں داخلے کیلیے پیشگی طور پر جامعہ کی انتظامیہ یا پراسیکیوٹر سے اجازت لینا ہوتی تھی اب یہ اختیار شیخ الازہر سے پولیس کو منقل ہو گیا ہے۔

دریں ثناء قاہرہ میں ایک عدالت نے جامعہ الازہر کے 38 طلبہ کو جامعہ میں مظاہرہ کرنے پر 18 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ اس سے پہلے 12 طلبہ کو سترہ سترہ سال کی سزا سنائے جانی خبریں آئیں تھیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کو 14 اگست رابعہ العدوایہ کریک ڈاون کے بعد مسلسل طلبہ کے ردعمل کا سامنا ہے، یاد رہے کریک ڈاون کے دوران 1000 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

اس صورت حال سے نمٹنے کیلیے جمعرات کے روز عبوری کابینہ نے اصولی فیصلہ کیا ہے کہ جامعہ میں داخلے کی پولیس اور فوج کو مطلق اجازت ہو گی۔

عبوری کابینہ نے مرسی دور میں غیر ملکیوں کو مصری شہریت دیے جانے کے فیصلے کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرسی دور میں فلسطینی شہریوں کو شہریت دینے کیلیے اقدامات کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں