غزہ ناکہ بندی سے انسانی المیہ میں اضافہ ہو گیا: اقوام متحدہ

مصر کیطرف سے سرنگوں کی تباہی سے صورتحال دگرگوں ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی علاقوں کے لیے اقوم متحدہ کے کو آرڈی نیٹر نے غزہ میں بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی مسدود کر دیے جانے کے باعث شہریوں کی مشکلات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اس تشویشناک صورتحال کی وجہ اسرائیل کی طرف سے جاری ناکہ بندی کے باعث ایندھن کی عدم فراہمی اور مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے سرنگوں کی بندش بتائی گئی ہے ہے۔

اقوام متحدہ کے کوآرڈی نیٹر جیمز رالے کا کہنا ہے کہ '' ایک سال کے دوران جس بہتری کی توقع تھی وہ نہیں ہو سکی ہے۔''جیمز رالے کے الفاظ تھے ''مجھے افسوس ہے کہ سترہ لاکھ کی آبادی کے حامل غزہ میں حالیہ ایک سال کے دوران صورتحال پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے۔'' جیمز رالے ایک سال گزرنے کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

اس انسانی المیے کی'' بنیادی وجہ ایندھن اور توانائی کے مسائل ہیں ''کیونکہ اسرائیل نے ان کی ترسیلات پر پابندی لگا رکھی ہے۔ فلسطینی مہاجرین کے امور کو دیکھنے کے لیے اقوام متحدہ کے شعبے کے ذمہ دار رابرٹ ٹرنر کے مطابق اشیاء کی سمگلنگ کیلیے بنائی گئی مصری سرحد سے متصل سرنگوں کی تباہی بھی غزہ میں مسائلی کی ایک اہم وجہ بنی ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق'' ان سرنگوں کی تباہی نے نجی شعبے میں تعمیرات کو مکمل طور پر ناممکن بنا دیا ہے، جبکہ اسرائیل نے پہلے ہی ایسی تعمیرات کی راہ مسدود کر رکھی ہے۔''

اقوام متحدہ کی ایک سال بعد پیش کی گئی اس رپورٹ کے موقع پر اقوام متحدہ کے ایک اور ذمہ دار آکسفیم نے کہا ''غزہ کے شہری آج بھی اسرائِیلی ناکہ بندی کی زد میں ہیں اس وجہ سے ان کا پوری دنیا سے رابطہ ختم ہو گیا ہے، حتی کہ دوطرفہ ''سیزفائر'' کے بعد بھی غزہ کے لوگوں کی آمدورفت اور اشیا ئے ضرورت کی نقل و حمل کی اجازت نہیں۔''

واضح رہے اسرائِیل کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی حالیہ چند ماہ سے دوبارہ امن مذاکرات کر رہی ہے اور محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ ہر صورت میں یہ مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

محمود عباس کے الفاظ تھے کہ'' زمین پر کچھ بھی ہوتا رہے اس کی پروا کیے بغیر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے۔'' واضح رہے اسرائیل نے 2006 میں غزہ کی بری اور بحری حوالے سے ناکہ بندی کی تھی جبکہ بعد ازاں 2007 میں اس ناکہ بندی کو مزید سخت کر دیا گیا، تاہم 2010ء میں اسرائیل کو اس وقت قدرے نرمی کرنا پڑی جب بین الاقوامی سطح سے اس پر شور اٹھا۔ اس میں ترکی کے فلوٹیلا کا کردار بھی اہم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں