مصر کا انقلاب نہیں چُرایا:اخوان نے جان کیری کا الزام مسترد کردیا

امریکا اپنے ہاں جمہوریت کا علمبردار ہے،دوسرے ممالک میں آمریت کا حامی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی سب سے منظم دینی وسیاسی قوت اخوان المسلمون نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا یہ الزام مسترد کردیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسلامی جماعت نے بعد از مبارک انقلاب چُرا لیا تھا۔

اخوان المسلمون کے سیکرٹری جنرل محمود حسین نے جمعہ کو امریکی وزیرخارجہ کے بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کی جماعت نے سابق صدر حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد ملک میں منعقدہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اور یہ ''شفاف'' انتخابات فوج نے ہی کرائے تھے جو اس وقت حکمرانی کررہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ان انتخابات کو سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی سربراہی میں غیرملکی مبصرین نے بھی شفاف قراردیا تھا۔انھوں نے امریکی انتظامیہ پر الزام عاید کیا کہ اس نے منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے عمل میں حصہ لیا اور اس کی حمایت کی تھی۔

اخوان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امریکا اپنے ہاں تو جمہوریت اور آزادیوں کا بڑا علمبردار ہے لیکن وہ دوسرے ممالک میں آمریت اور جبرواستبداد کا سب سے بڑا حامی بھی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بدھ کو مصر کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے حوالے سے اب تک سب سے سخت بیان جاری کیا تھا اور ان کے خلاف فوجی انقلاب کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ (حسنی مبارک کے خلاف برپا ہونے والی) عوامی بغاوت کو ریاست کی سب سے منظم جماعت نے چُرا لیا تھا اور وہ اخوان المسلمون تھی۔

ان سے پہلے امریکا کی جانب سے یہ بیانات سامنے آچکے ہیں کہ مرسی جمہوری اصولوں کے مطابق ملک میں تمام دھڑوں پر مشتمل شفاف حکومت کے قیام کے لیے مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہے تھے لیکن جان کیری یا کسی اور امریکی عہدے دار نے ایک منتخب صدر کی فوج کے سربراہ کے ہاتھوں برطرفی کی اس انداز میں مذمت یا مخالفت نہیں کی تھی جس طرح کہ وہ اپنے مخالف ممالک میں اسی طرح کے اقدامات پر کرتے رہے ہیں۔

امریکیوں نے مصری فوج اور اس کے تحت عبوری حکومت کے معزول صدر کے حامیوں اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کی بھی دوٹوک انداز میں مذمت نہیں کی تھی۔اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اخوان کے کم سے کم ایک ہزار کارکنان مارے گئے تھے اور اس کی اول درجے کی قیادت سمیت دوہزار سے زیادہ کارکنان اس وقت پابند سلاسل ہیں۔ان میں معزول صدر بھی شامل ہیں جن پر اب مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں