.

آئل فیلڈ اور سات فوجی ٹینکوں پر شامی باغیوں کا قبضہ

اس سے پہلے بھی ایک آئل فیلڈ پر باغی قبضہ کر چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ سمیت مسلح باغیوں نے مشرقی علاقے میں ایک اہم آئل فیلڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس امر انکشاف شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزر ویٹری برائے انسانی حقوق نے کیا ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق رات بھر جاری رہنے والی لڑائی کے بعد النصرہ اور دوسرے باغی گروپوں نے ملکی تیل کی پیداوار کے حوالے سے اہم مانے جانے والے عمر آئل فیلڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔

رامی عبدالرحمان کی آبزرویٹری کو موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ''باغیوں کے قبضے کے بعد بشارالاسد کی سرکاری افواج وہاں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔''

اس سلسلے میں جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ شام کے اہم آئل فیلڈ پر قبضے کے دوران بشار الاسد کی فوج سے چھینے گئے ٹینک پر سوار ہوکر باغی آئل فیلڈ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایک باغی کے دعوے کے مطابق سرکاری فوج سے سات ٹینک چھینے گئے ہیں۔

واضح رہے بشار الاسد کی فوج گزشتہ سال ماہ نومبر میں ایک مرتبہ پہلے بھی اس آئل فیلڈ کے قبضے سے محروم ہو چکی ہے، تاہم بعد ازاں سرکاری فوج نے دوبارہ اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ شامی باغیوں نے پہلے آئل فیلڈ پر پچھلے سال قبضہ کیا تھا۔

باغی گروپ پچھلے سال سے قبضے میں لیے گئےایک اور آئل فیلڈ کا تیل بلیک مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں۔ اس ناطے یہ آمدنی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

شام، امریکا اور یورپی یونین کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں سے پہلے یومیہ 420000 بیرل تیل پیدا کرتا تھا تاہم اب اس کے تیل کی برآمدات کم رہ گئی ہیں۔