.

ایرانی جوہری تنازعہ، جنیوا مذاکرات معاہدے کے قریب

جان کیری سمیت چھ بڑے ملکوں کے وزرائے خارجہ کی شرکت متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:



ایران کے جوہری تنازعے کے سلسلے میں امکانی ابتدائی معاہدے کے لیے پیش رفت میں تیزی کی علامات ہیں۔ چھ بڑی طاقتوں کے وزراء خارجہ میں سے امریکا اور چین کے وزرائے خارجہ بھی جنیوا کیلیے روانہ ہو گئے ہیں۔

یورپی ذرائع کے مطابق تقریبا دو ماہ سے جاری جنیوا مذاکرات کےنتائج قریب ہیں جبکہ ایر کئِ دہائیوں پر محیط اس جوہری تنازعے کے حوالے سے ایران کا موقف ہے کہ جاری کوششوں کے باجود دو سے تین نکات پر ابھی اختلاف موجود ہے۔ ''

امریکی دفتر خارجہ کے ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ آج ہفتے کے روز جنیوا مذاکرات کے چوتھے روز جان کیری بھی جنیوا مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

جنیوا مذاکرات میں موجود یورپی نمائندوں نے بتایا ہے کہ ایک اہم نکتہ جس پر بحث جاری ہے اسے بھی ہفتے کے روز طے کرنے میں کامیابی کا امکان ہے ۔ ان جاری مذاکرت کے نتیجے کے حوالے سے ایک سفارتکار نے بتایا '' کور ایشو سمیت کافی پیش رفت ہو چکی ہے ۔''

یورپی سفارتی نمائندوں کے قریبی ذرائع کے مطابق معاہدے کی صور ت میں ایران کواپنی جوہری سرگرمیاں روکنا ہوں گی اور اس کے بدلے میں ایران کو معاشی شعبے میں ریلیف ملے گا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک روز قبل ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور یورپی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرائن آشٹن سے ملاقات کر کے تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دورہ ماسکو کا بھی ذکر کیا گیا۔
چین کے خبر رساں ادارے نے دفتر خارجہ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں '' چین کے وزیر خارجہ ہفتے کے روز جنیوا میں ہو ں گے۔''

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے حوالے سے دفتر خارجہ نے بتا یا ہے کہ جان کیری جنیوا چلے گئے ہیں ۔'' امریکی دفتر خارجہ کے مطابق کیری نے جنیوا جانے کا فیصلہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے پیش نظر کیا ہے ، امید ہے کہ معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔''

ترجمان کے مطابق ترکی سے سفیر کی واپسی اور سفارتی تعلقات کا درجہ کم کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کے اس بیان کا ردعمل بتایا ہے کہ جس میں انہوں معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنے بیان میں ایردوآن نے 'رابعہ العدویہ' کی چار انگلیوں پر مشتمل نشان کو بین الاقوامی سطح پر ظلم کے خلاف آواز قرار دیا تھا۔ مصری حکومت نے اسی سال اگست میں رابعہ العدویہ کے مقام پر اخوان المسلمون کے دھرنے کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے منتشر کیا تھا جس میں سیکڑوں افراد جاں بحق و زخمی ہوئے تھے۔

قاہرہ وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکی تیس جون کے 'انقلاب' کے بعد سے مسلسل مصر کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔
"مصر، ترک عوام کا احترام کرتا ہے اور دیانت داری سے سمجھتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کا باعث انقرہ کے حالیہ بیانات ہیں۔"

مصر سے شائع ہونے والے موقر اخبار 'الاہرام' کے چیف ایڈیٹر اسامہ عبدالعزیز نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہ قاہرہ کا حالیہ فیصلہ توقع کے عین مطابق تھا۔ انہوں نے کہا کہ مصری وزیر خارجہ نبیل فھمی اور ترجمان وزارت خارجہ احمد المسلمانی نے ترک قیادت کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مصر کا شدید ردعمل پہنچایا تھا۔