.

بشار الاسد کے وزیر کی گاڑی پر حملہ، ڈرائیور ہلاک

وزیر برائے قومی مفاہمت گاڑی میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد حکومت کے وزیر کی گاڑی پر مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا ہے۔ وزیر برائے قومی مفاہمت علی حیدر گاڑی میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق قومی مفاہمت کے وزیر علی حیدر اس وقت بندوق بردار حملہ آور کی فائرنگ سے بچنے میں کامیاب رہے۔ جب ان کا ڈرائیور گاڑی میں اکیلا مو جود تھا اور بندوق برداروں نے ڈرائیور ہی کو وزیر سمجھ کو ہلاک کر دیا۔

وزیر مفاہمت علی حیدر سوشل نیشنلسٹ پارٹی کے صدر ہیں اور جون 2012 سے بشار رجیم میں وزارت کے منصب پر موجود ہیں۔

علی حیدر کی جماعت کے لیے اپوزیشن جماعتوں میں بھی کسی حد تک قبولیت اور برداشت موجود ہے۔ وہ بھی اپوزیشن کے بہت سارے مطالبات سے اتفاق کے باوجود بشار الاسد کو حکومت سے الگ کرنے کے حامی نہیں ہیں۔

اسی درمیانی پالیسی کی وجہ سے انہیں بشار الاسد نے اپوزیشن جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود حکومت میں شامل کیا ہے۔

وزیر مفاہمت شام کے ساحلی صوبے کے ہاما شہر سے تعلق رکھتے ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ماہر امراض چشم ہیں۔ ان کی گاڑی پر حملہ اسی ہاما شہر میں کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ان کا ایک بیٹا مئی 2012 کے دوران اپنے آبائی شہر میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکا ہے۔ بیٹے کی ہلاکت کے اگلے مہینے ہی بشار نے انہیں وزیر بنا دیا تھا۔