.

بیروت دھماکے: دو نوجوانوں کو مشکوک قرار دیدیا گیا

ایک سنی اکثریت کے شہر کا رہائشی، ڈی این اے مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی فوج نے ایرانی سفارتخانے کے باہر ہونے والے دو دھماکوں کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات کے لیے دو مشکوک افراد کے بارے میں کچھ معلومات شروع کر دی ہیں۔ ان مبینہ دو مشکوک افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس خوفناک واردات میں یہی مطلوب ٹھہریں۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک مشکوک فرد کا جنوبی لبنان کے شہر سیدون سے تعلق ہے۔ سیدون سنی اکثریت کا شہر ہے۔

فوجی حکام اس سلسے میں مشکوک شخص کے خاندان کے افراد سے ڈی این اے ٹیسٹ کا موازنہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ حکام نے اس کے خاندان سے بھی رابطہ کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص، جس کا نام معین عبدالدہر بتایا گیا ہے، کا ڈی این اے ٹیسٹ حاصل کیا جا چکا ہے۔

واضح رہے مشتبہ افراد کے بارے میں ابتدائی شکوک ان کی بننے والی اس ویڈیو کی بنیاد پر پیدا ہوئے ہیں جو جائے دھماکا سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان میں زیادہ تر ویڈیوز سی سی ٹی کیمروں سے مہیا ہوئی ہیں۔

میڈیا میں سامنے آنے والی ان مشکوک تصاویر کے بعد ایک شخص عدنان عبدالدہر نے لبنانی انٹیلی جنس حکام سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ یہ اس کے بیٹے کی تصاویر ہیں۔ تاہم ابھی فوجی حکام نے متعین انداز میں الزام عاید نہیں کیا ہے کہ معین عبدالدہر انہیں کس جرم میں مطلوب ہے۔

اسی دوران حکام نے ایک اور نوجوان کا بلیک اینڈ وائٹ خاکہ بھی جاری کیا ہے جسے اسلامی لباس میں دکھایا گیا ہے۔ تاہم اس کے بارے میں بھی فی الحال کوئی متعین الزام سامنے نہیں آیا ہے ۔

واضح رہے منگل کے روز بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے ہونے والے دو دھماکوں میں ایرانی کلچرل اتاشی ابراہیم انصاری سمیت 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان دھماکوں کی ابتدائی طور پر ایک القاعدہ گروپ نے ذمہ داری قبول کی تھی۔