.

شامی اپوزیشن کے چھے مرکزی گروپوں کا انضمام

بشار مخالفین کی صفوں میں القاعدہ کی شمولیت سے تحریک کمزور ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام ميں جاری حکومت مخالف تحريک پيچيدہ سے پيچيدہ تر ہوتی جا رہی ہے اور اب اس تحريک ميں شامل چھ اہم اسلام پسند گروہوں نے ’اسلامک فرنٹ‘ کے نام سے ايک نيا اتحاد قائم کر ليا ہے۔

شام ميں صدر بشار الاسد کو اقتدار سے عليحدہ کرنے کے ليے مارچ 2011ء ميں شروع کی جانے والی مسلح تحريک ان دنوں مختلف اقسام کی پيچيدگيوں کا شکار ہے۔ پچھلے چند مہينوں سے شامی باغيوں کی مختلف صفوں اور القاعدہ سے منسلک گروہوں کے مابين تصادم کے سبب معاملات کافی پيچيدگی اختيار کرتے جا رہے ہيں۔

اس حوالے سے تازہ ترين پيش رفت یہ ہے کہ باغی تحريک ميں شامل چھ اہم اسلام پسند گروہوں نے ’اسلامک فرنٹ‘ کے نام سے ايک نيا اتحاد قائم کر ليا ہے۔ ان گروہوں کے نمائندگان نے اپنے ويڈيو پيغام کے ذريعے اس نئے اتحاد کے بارے ميں مطلع کيا۔ اس تنظيم نے صدر اسد کو اقتدار سے علاحدہ کرنے اور شام کو ايک اسلامی رياست بنانے کے عزم کا اظہار کيا ہے۔

’اسلامک فرنٹ‘ نے اپنے پيغام ميں القاعدہ سے منسلک تنظيموں کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار بھی کيا۔ تنظيم کی جانب سے جاری کردہ بيان کے مطابق ’’يہ ايک آزاد سياسی، عسکری اور سماجی گروپ ہے، جو صدر اسد کی حکومت کے خاتمے اور اسلامی رياست کے قيام کے مقصد سے بنايا گيا ہے۔‘‘

اس پيش رفت سے مسلح تحريک ميں فعال سيکولر باغيوں اور القاعدہ سے منسلک گروپوں، دونوں ہی کو ايک نئے چيلنج کا سامنا ہے۔ شامی باغيوں کی مرکزی تنظيم جیش الحر کو گذشتہ کچھ دنوں سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے کيونکہ متعدد گروپوں نے اس تنظيم کا ساتھ چھوڑ کر بہتر وسائل کی حامل اسلام پسند تنظيموں کے ساتھ ہاتھ ملا ليے ہيں۔

درايں اثناء اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کيا گيا ہے کہ شام کے خونريز تنازعے کے حل کے ليے مجوزہ ’جنيوا ٹو‘امن کانفرنس کی حتمی تاريخ طے کرنے کے ليے امريکا، روس اور اقوام متحدہ کے سفارت کار آئندہ پير کے روز جنيوا ميں ملاقات کريں گے۔

اس ملاقات ميں شام کے ليے اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصی مندوب لخضر براہيمی اور اقوام متحدہ کے جيفری فيلٹمين روسی نائب وزرائے خارجہ ميخائل بوغدانوف اور گينيڈی گيٹيلوو سميت امريکی سينئر اہلکار وينڈی شرمين سے ملاقات کريں گے۔ اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کے بقول پچيس نومبر کے روز ہونے والی اس ملاقات کے بعد سيکرٹری جنرل بان کی مون کو اس امن کانفرنس کی حتمی تاريخ کا اعلان کر دينا چاہيے۔

واضح رہے کہ شام ميں جاری مسلح حکومت مخالف تحريک ميں مارچ 2011ء سے اب تک اندازوں کے مطابق کوئی ايک لاکھ پندرہ ہزار کے قريب افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔