.

مصر:حکومت مخالف مظاہروں کے دوران جھڑپیں ،3 افراد ہلاک

اخوان کے دو دھرنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے 100 دن پورے ہونے پراحتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔اس دوران ان کی حکومت کے حامیوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ایک کم سن لڑکے سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مصری سکیورٹی فورسز نے قاہرہ کے رابعہ العدویہ چوک اور النہضہ اسکوائر میں اخوان المسلمون کے دھرنے ختم کرانے کے لیے 14 اگست کو کریک ڈاؤن کیا تھا۔اس کے ایک سو دن پورے ہونے پر اخوان اور دوسری جمہوریت پسند جماعتوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

العربیہ ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق نماز جمعہ کے بعد قاہرہ اور دوسرے بڑے شہروں میں حکومت مخالفین نے ریلیاں نکالیں۔اس دوران ان کی حکومت کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں تین افراد مارے گئے ہیں۔

سویز شہر میں فریقین کے درمیان جھڑپ کے دوران فائرنگ سے ایک دس سالہ لڑکا مارا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق مقتول سمیر الجمال اپنی والدہ کے ساتھ مظاہرین اور حکومت کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی جگہ کے قریب سے گزررہا تھا کہ اس کو سر میں پچھلی جانب سے گولی آ لگی۔مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کا کہنا ہے کہ جمال خاندان نے اخوان المسلمون کو اپنے بیٹے کی موت کا ذمے دار قراردیا ہے۔

فوجی انقلاب مخالف اور آئینی حکمرانی کے مؤید قومی اتحاد نے جمعہ کو ریلیوں کی اپیل کی تھی۔واضح رہے کہ اگست میں رابعہ العدویہ مسجد کے باہر اور النہضہ اسکوائر میں دھرنا دینے والے اخوان کے کارکنان کے خلاف مصری فورسز نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا اور ان پر بلڈوزر چڑھا دیے تھے جس کےنتیجے میں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

اس خونین کریک ڈاؤن کے بعد اخوان المسلمون کی قیادت میں اتحاد نے فوجی حکمرانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس دوران ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں اور دوہزار سے زیادہ اسلام پسندوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

اخوان المسلمون اور دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی اور ملک میں آئین کی حکمرانی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے برطرف کردیا تھا۔