ایران کے ساتھ سمجھوتے کے مضمرات پر سعودی عرب کا مغرب کو انتباہ

اسرائیل کو بھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کا پابند بنایا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے جوہری تنازع کے حل کے لیے جاری مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ریاض خاموش نہیں رہے گا۔ نیز ایران کے جوہری مسئلے کے حل میں ناکامی کی مضمرات کی ذمہ داری مغرب بالخصوص امریکا اور برطانیہ جیسے ملکوں پرعائد ہو گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانیہ میں متعین سعودی سفیر شہزادہ محمد بن نواف بن عبدالعزیز نے ایک انٹرویو کہا ہے کہ گروپ چھ کو ایران کے جوہری پروگرام کا فوری حل تلاش کرنا چاہیے اور تہران کو ایٹمی اسلحے کی تیاری سے ہر قیمت پر روکنا چاہیے۔ اگر امریکا اور برطانیہ ایران کے جوہری خطرے کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہے تو ریاض خاموش نہیں رہے گا بلکہ ایران کے جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کرے گا۔

سعودی سفیر نے کہا کہ ایران کے جوہرے خطرے سے نمٹنے کے لیے ان کے ملک کے سامنے تمام آپشن موجود ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور خطے کے بارے میں امریکی خارجہ پالیسی پراسرار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سعودی عرب قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے تدارک کے لیے ہرممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ ایران سے معاہدہ کرنے والی طاقتوں کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے ساتھ یہ بتانا ہوگا کہ تہران سے سمجھوتے کے کیا مضمرات سامنے آ سکتے ہیں۔

شہزادہ نواف نے عالمی طاقتوں کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے ایران کے جوہری مسئلے پر نرمی کی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ایران نے عالمی برادری کے لچک دار رویے اور نرم پالیسی سے فائدہ اٹھایا۔ اکیسویں صدی میں اس طرح کی پالیسیاں کامیاب نہیں ہو سکتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جوہری اسلحے کے حصول کی دوڑ خوش آئند نہیں۔ پہلے اسرائیل، مشرق وسطیٰ میں جوہری اسلحہ حاصل کرچکا ہے۔ اسرائیل کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران سے بھی ہمارا یہی مطالبہ ہے، لیکن ان دونوں ملکوں کے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے پر ہمیں شبہات ہیں۔

سعودی سفیر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کا پابند بنانے کے لیے تل ابیب پر دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ کو جوہری اسلحے سے پاک خطہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہی سب کے مفاد میں ہے۔ اگر اس اصول کو نظرانداز کرکے ایک ملک اپنے دفاع کے لیے تباہ کن اسلحہ جمع کرنا چاہتا ہے تو ہمیں اس کے سنگین نتائج کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں