مصر میں مظاہروں کو محدود کرنے کا متنازعہ قانون منظور

عبوری صدرنے دستخط کردیے،مظاہرین کو پولیس کو پیشگی آگاہ کرنا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک میں ہونے والے مظاہروں کو محدود کرنے کے لیے ایک متنازعہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔

مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے اطلاع دی ہے کہ صدر عدلی منصور نے اتوار کو اس قانون پر دستخط کردیے ہیں۔اب اس کے نافذالعمل ہونے کے بعد مظاہرین کو عوامی مقامات میں اجتماع سے قبل پولیس کو پیشگی آگاہ کرنا ہوگا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اس سے شہریوں کا اجتماع اور پُرامن احتجاج کا حق سلب ہو کررہ گیا ہے لیکن مصر کے عبوری وزیراعظم حازم ببلاوی نے اس متنازعہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مظاہرین کے حقوق کا تحفظ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ قانون میں یہ نہیں لکھا ہے کہ مظاہرین کو ریلیوں کے انعقاد سے قبل اجازت لینا ہوگی بلکہ انھیں اپنے مظاہروں کے بارے میں حکام کو پیشگی آگاہ کرنا ہوگا۔مصری وزیراعظم کے بہ قول اس قانون کی تفصیل بہت جلد شائع کردی جائے گی۔

اس قانون کا جب مسودہ تیار کیا جارہا تھا تواس میں یہ کہا گیا تھا کہ مظاہروں سے متعلق حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عاید کیا جائے گا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی قوتوں نے اس قانون پر کڑی تنقید کی ہے اور اس کو مظاہرین کی آزادی کو محدود کرنے کی جانب قدم قراردیا ہے۔

مصر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی انیس تنظیموں کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے اس قانون میں بعض ترامیم کے باوجود اب بھی اس کے ذریعے پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لامحدود اختیارات دے دے گئے ہیں۔

احتجاجی مظاہروں پر قدغنیں لگانے کے لیے اس قانون کا مسودہ فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے تیار کیا تھا۔اس پر ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک بحث مباحثہ ہوتا رہا ہے اور اس کو ملک میں گذشتہ تین ماہ سے جاری ہنگامی حالت کے خاتمے کے دس روز کے بعد نافذ العمل کیا گیا ہے۔تاہم ابھی اس کی تمام تفصیل منظرعام پر نہیں آئی ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد قائم کی گئی حکومت شہری آزادیوں پر پہلے ہی بعض قدغنیں لگانے کی کوشش کرچکی ہے اور حکومت مخالفین کو آزادانہ طور پر احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں ہے۔

اس حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز نے 14 اگست کو قاہرہ کے دوعلاقوں میں منتخب صدر کی برطرفی کے خلاف دھرنا دینے والے اخوان المسلمون کے کارکنان کے خلاف طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا اور ان کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن میں کم سے کم ایک ہزارافراد مارے گئے تھے جبکہ دوہزار سے زیادہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں