دمشق کے نواح میں شامی فوج اور باغیوں میں شدید لڑائی ،160 ہلاک

باغی جنگجوؤں کے فوج کا محاصرے ختم کرانے کے لیے چیک پوائنٹس پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے دارالحکومت دمشق کے مشرقی علاقے میں صدر بشار الاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ دوروز سے جاری خونریز جھڑپوں میں ایک سو ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

باغی جنگجوؤں اور شامی فوج کے درمیان جمعے کے روز لڑائی شروع ہوئی تھی۔باغیوں نے مشرقی غوطہ کے علاقے میں فوج کے گذشتہ چھے ماہ سے جاری محاصرے کو ختم کرانے کے لیے چیک پوائنٹس پر حملے کیے تھے جس کے بعد سے ان کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔

مقامی اور عالمی امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد کی فورسز محاصرے کے ذریعے علاقے کے مکینوں کو بھوک کا شکار کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور اس سے باغی جنگجو بھی متاثر ہورہے ہیں۔سرکاری فوج کے محاصرے کے نتیجے میں باغیوں کو اسلحے اور دیگر سامان رسد کی سپلائی منقطع ہوکررہ گئی ہے اور دارالحکومت کے نواح میں اب جنگ صدر بشارالاسد کے حق میں ہوتی جارہی ہے۔

اس محاذ پر لڑائی میں دونوں جانب سے سیکڑوں غیر ملکی جنگجو بھی شریک ہیں اور یہ درحقیقت فرقہ وارانہ بنیاد پر ہی لڑی جارہی ہے۔لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ،ایرانی اور عراقی شیعہ جنگجو اسدی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں جبکہ باغیوں کو القاعدہ اور پڑوسی ممالک سے تعلق رکھنے والے اہل سنت جنگجوؤں کی مددحاصل ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق باغیوں نے حال ہی میں اسدی فوج کے خلاف جنگ کے دوران پیش قدمی کی ہے اور علاقے میں بعض چھوٹے دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ان میں دیر عطیہ بھی شامل ہے جہاں اسدی فوج نے تین فضائی حملے کیے ہیں۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ مشرقی غوطہ میں جمعہ اور ہفتے کو لڑائی میں باغیوں کے ایک سو جنگجو مارے گئے ہیں اور بشارالاسد کی وفادار فورسز کی ہلاکتوں کی تعداد ساٹھ سے بڑھ چکی ہے۔اس تنطیم کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ اسے اب تک 160 ہلاکتوں ہی کا پتا چلا ہے۔

تنظیم کے سربراہ رامی عبد الرحمان نے ایک بیان میں کہا کہ اس محاذ پر جنگ میں ناقابل یقین حد تک انسانی جانی نقصان ہوا ہے اور لڑائی دمشق کے تمام مشرقی نواحی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔شامی حکومت کے ترجمان کی جانب سے فوری طور پر ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں