.

ارکان کانگریس کا ایران پر پابندیوں کا دباو جاری رکھنے کا عزم

امریکی قانون ساز پاکستان اور شمالی کوریا والی ''غلطی دہرانے ''کیخلاف ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جنیوا میں طے پانے والے معاہدے پر اسرائیل ہی نہیں خود امریکی کانگریس کے بہت سے ارکان کے شکوک شبہات قائم ہیں۔ اس لیے امریکی قانون ساز ایران کے خلاف آئندہ چھ ماہ کے دوران اقتصادی پابندیوں کا دباو بڑھانے کے حق میں ہیں۔

ایسے ارکان کانگریس بھی ہیں جو پاکستان اور شمالی کوریا کے حوالے سے امریکی '' غلطی '' کے ایران کے ساتھ دہرائے جانے کے حق میں نہیں ہیں، جبکہ امریکی صدر اوباما جنیوا میں طویل مذاکرات کے بعد سامنے والے معاہدے کو پہلا اور اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

معاہدے کے نتیجے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے ایران پر عاید کی گئی پابندیاں قدرے نرم ہو گئی ہیں، تاہم ایران کو خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کی طرف سے معاہدے پر عمل در آمد میں کوتاہی کی صورت میں ان پابندیوں کو دوبارہ نافذ کر دیا جائے گا۔ اس کے باوجود شکوک و شبہات کا شکار ارکان کانگریس کا اصرار ہے کہ ایران کو زیر دباو رکھنے کیلیے پیشگی بنیادوں پر ایسی اقتصادی پابندیوں کا اہتمام کیا جا نا چاہیے۔

ری پبلکن سینیٹر مارک کیرک اس بارے میں بڑَ ے واضح ہیں، ان کا کہنا ہے کہ '' میں اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں کام جاری رکھوں گا کہ اگر ایران معاہدے کی پابندی نہیں کرتا ہے تو ایران کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ سخت پابندیوں کی تیاری رہے۔''

سینیٹر کیرک اس سے پہلے بھی ایران کے خلاف عاید پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے سلسلے میں کانگریس کی ساری بحثوں میں بڑے فعال رہے ہیں۔ سینیٹ کے ایک ماتحت افسر نے اس بارے میں اس موضوع کو سموتے ہوئے کہا '' یہ پابندیاں اس صورت میں یقینی ہیں کہ ایران کسی مرحلے پر دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے یا اپنی جوہری تنصیبات کو ناکارہ نہیں بناتا۔''

سینیٹ میں آرمڈ سروسز سے متعلق کمیٹی کے چئیرمین اور ڈیموکریٹ سینیٹر کارل لیون کا اس بارے میں کہنا ہے کہ '' اگر ایران جوہری اسلحہ نہ بنانے سے متعلق جامع معاہدے کو یقینی نہیں بناتا تو کانگریس میں اس کے خلاف وسیع البنیاد اتفاق رائے موجود ہے کہ پہلے سے بھی زیادہ سخت پابندیاں عاید کر دی جائیں گی۔''

ایوان نمائندگان میں اہم ترین ری پبلکن رکن اور سپیکر جان بوہنر کا کہنا ہے کہ '' ایران کے ساتھ عبوری معاہدہ ہو جانے کے بعد صحت مندانہ شکوک شبہات اور سخت سوالات ضروی اور مفید رہیں گے۔'' ان کے مطابق '' یہ سخت سوالات صرف ایرانیوں سے نہیں کیے جانے چاہییں بلکہ یہ ہمیں خود اپنے لوگوں اور اپنے اتحادیوں سے بھی جاری رکھنے چاہییں جو جنیوا مذاکرات کا حصہ رہے ہیں۔''

سپیکر کا امریکی انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ ایران کیخلاف پابندیوں کو محفوظ رکھا جائے۔ بصورت دیگر'' ہوشیاری سے معاہدہ کرنے والا ایران بین الاقوامی پابندیوں کو '' مسمار '' کر دے گا اور اپنی جوہری تنصیبات کو برقرار رکھے گا۔''

ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا '' میرے خیال میں آپ دیکھیں گے کانگریس اضافی پابندیاں نافذ کرے گی لیکن ان کا نفاذ چھ ماہ کے دوران نہیں ہو گا، البتہ ان کا نفاذ بعض شرائط کے ساتھ ہو گا۔''

ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ مائیک راجرز نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر کہا '' ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کا اجازت نامہ دے دیا گیا ہے۔''

انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے ''ہم اس سے پہلے پاکستان کے حوالے سے یہ غلطی کر چکے ہیں، اسی طرح شمالی کوریا کے حوالے سے بھی یہ غلطی کر چکے ہیں، یہی غلطی آپ مشرق وسطی میں کیوں کرنا چاہتے ہیں؟''