.

اسرائیلی اکثریت نے جوہری معاہدہ صہیونی ریاست کے خلاف قراردیدیا

46فی صد ایران پر حملے کے حامی،38 فی صد مخالف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے تین سے زائد حصوں میں بسائے گئے یہودی یقینی طور پر اس خدشے کو محسوس کرتے ہیں کہ ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

اس امر کا اظہار ایک تازہ عوامی جائزے میں کیا گیا ہے۔ رائے عامہ کو جانچنے کے لیے اس جائزے کا اہتمام ایک اہم اسرائیلی روزنامے نے کیا تھا۔

اس جائزے میں پاچ سو یہودیوں کی آراء لی گئیں اور اس امر کا اہتمام کیا گیا کہ عرب مسلمان کی رائے شامل نہ ہو۔ واضح رہے عرب مسلمان اسرائیلی مقبوضات میں 20 فیصد کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

جائزے کے نتیجے میں 58 فیصد یہودیوں کا موقف ہے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔ جائزے میں اس ایشو پر واضح تقسیم دیکھنے میں آئی ہے کہ اسرائیل کو ایران کے جوہری چیلنج سے نمٹنے کیلیے ایران کیخلاف فوجی کارروائی کرنی چاہیے یا نہیں۔

جائزے کے مطابق 46 فیصد کے خیال میں حملہ کیا جانا چاہیے اور 37 فیصد سے زائد کے مطابق اسرائیل کو ایران پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔

واضح رہے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز اپنے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ'' اسرائیل کو ایرانی جوہری خطرے سے نمٹنے کا حق ہے۔''