.

اسرائیل: مغربی کنارے میں نئی یہودی آبادیوں کی منظوری

رواں ماہ نئے گھروں کی تعمیر نہ کرنے کا اعلان کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی انتظامیہ نے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کے منصوبے کے تحت نئے 829 گھروں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ اسرائیل نے اپنے ہی رواں ماہ کیے گئے ایک فیصلے کے بر عکس فیصلہ کر لیا۔

مقبوضہ عرب علاقوں میں مزید یہودی بستیوں کی مخالفت کرنے والی ایک غیر سرکاری یہودی تنظیم "اب امن" کے مطابق یہودی آبادی میں توسیع کی منظوری مغربی کنارے میں موجود ایک اسرائیلی فوجی کمیٹی کے اعلی عہدیدار لیور امیھائی نے دی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے اگست میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں 2000 نئے یہودی گھروں کی منظوری دی تھی۔ لیکن اسی ماہ بڑھے ہوئے عالمی دباو کے بعد اس بارے میں قدرے تبدیلی کرتے ہوئے سینکڑوں نئے گھر بنانے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

زمینی حقائق کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ان علاقوں میں یہودی آبادکاری میں 70 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے تحفظات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ " فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کا مستقل بنیادوں پر بڑھتے رہنا ایک خطرناک عمل ہے، اس سے مشرق وسطی کے امن مذاکرات پر کچھ ناخوشگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہیں"۔

واضح رہے کہ مغربی کنارے میں 5 ملین سے زائد اسرائیلی اور مشرقی یروشلم میں اڑھائی ملین فلسطینی آباد ہیں۔ اسرائیلی ہاوسنگ کے وزیر نے اکتوبر کے آخر جنوبی مغربی کنارہ کے شہر ہیبرون میں یہودی آبادکاری کو تیز اور دوگنا کرنے کا اعلان کیا تھا۔