.

العربیہ کے زیر اہتمام ''مشرق، مغرب مواصلاتی خلیج'' پر مباحثہ

فورم میں مشرقی اور مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شرکت کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز نے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اپنی ویب سائٹ کے از سر نو اجراء کے موقع پر آیندہ ہفتے دبئی میں ''مشرق اور مغرب کے درمیان مواصلاتی خلیج'' کے موضوع پر ایک مباحثے کا اہتمام کیا ہے۔

یہ پہلی ''العربیہ نیوز گلوبل ڈسکشن'' 30 نومبر کو ہوگی اور اس میں مختلف حکومتوں، میڈیا اداروں اور تھنک ٹینکس کے نمائندے شرکت کریں گے۔ یہ فورم العربیہ نیوز چینل کی نشریات کے دس سال پورے ہونے پر منعقد کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر عمان میں قائم اردن میڈیا انسٹی ٹیوٹ کی بانی شہزادی ریم علی اور العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجرعبد الرحمان الراشد خطاب کریں گے۔ ان کے ساتھ ماہرین کا پینل ''مشرق اور مغرب کے درمیان مواصلاتی خلیج پاٹنے'' کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرے گا۔

العربیہ کی انگریزی ویب سائٹ کے ایڈیٹر انچیف فیصل جے عباس کا کہنا ہے کہ ''اس مباحثے کا مقصد دراصل دنیا کے بارے میں بہتر تفہیم کو اجاگر کرنا ہے۔ موجودہ دور میں اس موضوع پر زیادہ گفتگو کی ضرورت ہے اور ہمیں توقع ہے کہ اعلیٰ پائے کے مقررین، ماہرین تعلیم، سفارت کار، کاروباری شخصیات اور صحافی حضرات ایک مفید اور تعمیری بحث کو آگے بڑھائیں گے''۔

یہ فورم انگریزی زبان میں ہو گا۔ اس کے پہلے پینل کے ماڈریٹر فیصل جے عباس ہی ہوں گے۔ اس میں عرب دنیا کی مغرب میں موثر لابی کاری میں ناکامی کا تجزیہ کیا جائے گا۔ اس پینل میں لندن سے شائع ہونے والے اخبار''الشرق الاوسط'' کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر عادل الطریفی، کونسل برائے عرب برطانیہ مفاہمت کے ڈائریکٹر کرس ڈائل، عالمی اقتصادی فورم میں مواصلات اور میڈیا کے سربراہ اور مینجنگ ڈائریکٹر ایڈریان مونک اور واشنگٹن میں العربیہ کے بیورو چیف ہشام ملحم شریک گفتگو ہوں گے۔

دوسرے پینل کے لیے گفتگو کا عنوان ''ترجمے میں کھو گیا: کیا مغرب واقعی مشرق وسطیٰ کو سمجھتا ہے'' (Lost in translation: Does the West really understand Middle East) ہو گا۔ اس پینل کی ماڈریٹر العربیہ نیوز چینل کی سنئیر اینکر ریما مکتبی ہوں گی۔ اس پینل میں مغربی میڈیا کی عرب دنیا کی کوریج اور تفہیم کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس پینل کے شرکاء میں لندن کی سٹی یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے سربراہ پروفیسر جارج براک، سعودی عرب کے پہلے انگریزی اخبار ''سعودی گزٹ'' کے مدیر اعلیٰ خالد المعینہ، نیویارک /اقوام متحدہ میں العربیہ نیوز چینل کے بیورو چیف طلال الحاج اور مشرق وسطیٰ میں وسیع تجربہ کے حامل براڈکاسٹر، لکھاری اور صحافی چارلس گلاس شامل ہوں گے۔

فورم میں ایک خصوصی سیشن ''علاقائی ترجمان سے کیا مراد ہے؟'' کے عنوان سے ہو گا۔ اس میں مشرق وسطیٰ میں سرکاری اور کاروباری مواصلات ومراسلت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سیشن کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے عربی زبان کے علاقائی ترجمان جوشوبیکر اور برطانیہ کے دفتر خارجہ اور دولت مشترکہ کی علاقائی ترجمان روز میری ڈیوس تقریر کریں گی۔

واضح رہے کہ العربیہ نیوز چینل کی نشریات کا آغاز 2003ء میں ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اس نے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی ہے۔ گذشتہ ایک عشرے کے دوران اس کا ایک اور نیوز چینل "الحدث" کے نام سے اپنی نشریات پیش کر رہا ہے اور انٹرنیٹ پر چار زبانوں عربی، انگریزی، اردو اور فارسی میں اس کی الگ الگ ویب سائٹس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے فورمز پر بھی اس کے اکاؤنٹس کے ذریعے قارئین وصارفین کو دنیا بھر میں پیش آنے والے تازہ واقعات سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھا جاتا ہے۔