.

جوہری معاہدہ، امریکا اسرائیل کیساتھ فوری مشاورت چاہتا ہے: اوباما

فنڈ ریزنگ مہم پر روانگی سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم سے فون پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدربراک اوباما نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کے بارے میں اسرائیل کو رام کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو فون پر یقین دلایا ہے کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ اس بارے میں فوری مشاورت شروع کرنا چاہتا ہے۔

صدر اوباما نے ڈیموکریٹک فنڈ ریزنگ مہم پر وائٹ ہاوس سے روانہ ہونے سے پہلے نیتن یاہو سے فون پر بات کر کے جنیوا میں طے پانے والے معاہدے کے بعد کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا اور اسرائیل کے شکوک و شبہات دور کرنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ایرنیسٹ نے دونوں رہنماوں کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت کے بارے میں میڈیا کو بتایا '' دونوں رہنماوں نے ایک دوسرے کو اس بارے میں پختہ یقین دلایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا مشترکہ ہدف ہے۔''

ترجمان کے مطابق صدر اوباما نے کہا '' ہم اس بارے میں اپنے اسرائیلی دوست کو اپنی کمٹمنٹ کا مسلسل یقین دلاتے آئے ہیں اور اب بھی ہمارے درمیان قریبی رابطہ رہے گا۔''

اس سلسلے میں صدر اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ '' امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایرانی جوہری ایشو کے جامع حل کیلیے فوری طور پر مشاورت شروع کی جائے گی۔''

وائٹ ہاوس کے ترجمان کے مطابق '' امریکی صدر نے یہ بات نمایاں طور پر کہی کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ اپنے وعدوں پر پختہ رہے گا کیونکہ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں اسرائیلی شکوک و شبہات کی جائز وجوہات ہیں۔''

واضح رہے جنیوا میں چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ ایرانی مذاکرات کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم کا صدر اوباما سے ایک سے زائد بار فون پر رابطہ ہوا تاہم ہفتے کو رات گئے ابتدائی معاہدہ ہو جانے کے بعد یہ پہلا فونک رابطہ تھا۔