.

سعودی عرب: جاری منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا خدشہ

سعودی ایوان صنعت و تجارت کیطرف سے نئے قوانین کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایوان صنعت و تجارت کی صنعتی و تجارتی کمیٹی نے سعودی وزارت محنت سے مطالبہ کیا ہے کہ کارکنوں کی فوری اور آسان دستیابی کیلیے نئے قوانین بنائے جائیں۔

سعودی ایوان صنعت و تجارت کی کمیٹی نے اس مطالبے کے ساتھ ساتھ یہ اشارہ بھی کیا ہے کہ سعودی کمپنیوں کو کارکنوں کی ہائرنگ کے نئے قوانین بنا کر اجازت نہ دی گئی تو سرکاری اور نجی شعبے میں زیر عمل منصوبوں کی بروقت تکمیل مشکل ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق صنعتی و تجارتی کمیٹی نے نئے قوانین کی تجویز اس لیے دی ہے کہ سرمایہ کار کمپنیوں کو یہ خوف لاحق ہو گیا ہے کہ کارکنوں کی دستیابی میں حالیہ کمی کی وجہ سے ان کیلیے پہلے سے طے شدہ نظام الاوقات میں اہداف کا حصول ممکن نہیں رہے گا۔

ان ذرائع کے مطابق سرمایہ کار کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ ایسی صورت میں انہیں حرجانے ادا کرنا پڑ سکتے ہیں کیونکہ سرکاری اور نجی منصوبوں میں کسی حد تک غیر قانونی طور پر دستیاب کارکنوں پر بھی انحصار کیا جاتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ تجویز کے بعد یہ لازم ہو سکتا ہے کہ کمپنیاں کارکنوں کے حصول کیلیے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیا کریں گی جس میں کارکنوں کی جائے ملازمت، منصوبے کانام اور کام کی نوعیت کے علاوہ یومیہ کام کے دورانیہ کا اندراج ہو گا۔

صنعتی و تجارتی کمیٹی کے ذرائع کے مطابق ایسے تحریری معاہدے کے بعد کارکانوں کے لیے تحفظ ملازمت کا امکان بڑھ جائے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ تقریبا دس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کے جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کیلیے اکثریت سعودی کارکنوں سے کیے جانے کا امکان ہے۔

ان ذرائع کے مطابق تقریبا دس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن میں زیادہ تعداد بنگلہ دیش، فلپائن، ہندوستان، نیپال ، پاکستان اور یمن کے باشندوں کی ہے۔

نیشنل کمیٹی برائے ٹرانسپورٹ کے ڈپٹی چئیرمین سعید البسامی کا کہنا ہے کہ تجویز کو جائزہ لیا گیا ہے کہ کسی فریق کی طرف سے کوئی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی ہے۔