.

"طاقت کے توازن کے لیے ریاض کو جوہری اسلحے کا حق حاصل ہے"

جنیوا معاہدے میں خلیج کی سلامتی کی ضمانت نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوہری پروگرام خاتمے کے حوالے سے چھے بڑی طاقتوں اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب کو بھی جوہری اسلحے کے حصول کا حق حاصل ہے۔ مبصرین نے جنیوا معاہدے کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس سمجھوتے میں خلیجی ممالک کی سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی ہے۔

ماہرین نے العربیہ ٹی وی اور العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے جوہری اسلحے کی دوڑ میں شامل ہونے کی مخالفت کی وہیں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب کو بھی ایٹم بم کے حصول کا حقدار قرار دیا۔

ماہرین نے برطانیہ میں متعین سعودی سفیر شہزادہ محمد بن نواف کے اس بیان کی حمایت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "ہمارے ملک کو بھی پرامن مقاصد کے لیے اٹیمی ٹیکنالوجی کے حصول کا حق ہے"۔

مبصرین نے ہفتے کے روز جنیوا میں طے پائے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے مغرب نے ایران کے ساتھ ڈیل میں تہران کو جوہری ہتھیار بنانے کی کھلی چھٹی دے دی ہے۔ سعودی عرب کے امریکا اور مغرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کےعلی الرغم معاہدہ کرتے ہوئے خلیج کی سلامتی کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ معاہدے میں ایسی کوئی وضاحت موجود نہیں کہ ایران جوہری بم بنانے کے بعد خلیجی ممالک کے لیے خطرہ ثابت نہیں ہوگا۔ عالمی طاقتوں نے ایران کو متنازعہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول سے روکنے کے بجائے الٹا تہران کی مدد کا معاہدہ کیا ہے۔ سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو اس پر تحفظات ہیں۔

کویت یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے استاد اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر شفیق الغبرا نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغرب اور ایران کے درمیان سمجھوتے میں خلیج کی سلامتی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ معاہدے میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی کہ ایران، خلیجی ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں برپا ہونے والی تبدیلی کی تحریکوں سے قبل ایران کسی حد تک قابل قبول تھا مگر شام میں جاری شورش میں تہران نے جو منفی کردار ادا کیا ہے اس کے بعد خطے کی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوچکا ہے۔

ایران علاقے کا بڑا چیلنج ایران اور مغرب کے درمیان طے پائے جنیوا معاہدے پر اردن کے سابق وزیر اطلاعات ونشریات صلاح القلاب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے بعد ایران، مشرق وسطیٰ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمجھوتے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی بدن بولی سے صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ خطے کے ممالک کو چیلنج کر رہے ہیں۔

اردنی تجزیہ نگار نے تہران سے معاہدہ کرنے میں امریکی کردار پر بھی کڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ ایران سے معاہدے کے باوجود ان کے دوست ملکوں کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ جان کیری کے ملک امریکا کا خطے میں صرف ایک ہی دوست ہے جسے "اسرائیل" کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت شام، عراق، یمن اور بحرین سمیت کئی ریاستوں میں براہ راست مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس لیے تہران کے جوہری پروگرام پر کڑی شرائط عائد کی جانی چاہئیں تھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ تہران کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔

جوہری اسلحہ حصول کا مقابلہ

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین عبداللہ العسکر نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد خطے میں اسلحے کے حصول کی ایک نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ اگر جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے ایران ایک قدم آگے بڑھے گا تو خطے کے بڑے ممالک، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات اورمصر دو قدم آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کریں گے۔ یوں اسلحے کے حصول کی ایک لامتناعی دوڑ شروع ہوجائے گی، جس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔"۔

ایک اور سوال کے جواب میں عبداللہ العسکر کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو جوہری بم بنانے سے روکا نہ گیا تو یہ بھی ممکن ہے کہ خلیجی ممالک مل کر جوہری ہتھیار تیار کرنا شروع کردیں۔ تاہم ایسی کسی بھی کوشش میں سعودی عرب کا کردار کلیدی ہو گا۔