.

مصر کا تحفظ اور استحکام فوج کا واحد مقصد ہے: جنرل السیسی

مسلح افواج نے ہمیشہ ملک کی تعمیر، ترقی اور اصلاحات کے لیے کام کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے آرمی چیف اور وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا ہے کہ مسلح افواج کی ملک کے تحفظ اور اس کے استحکام کے سوا کوئی خواہشات نہیں ہیں۔

جنرل السیسی فوج کے ایک محکمے کے زیر اہتمام قاہرہ میں ایک سیمی نار سے خطاب کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم ایک قومی باوقار فوج ہیں،ہم نے ہمیشہ تعمیر ،ترقی اور اصلاحات کے لیے کام کیا ہے۔ہماری مصر کے دفاع اور اس کے استحکام کے سوا کوئی خواہشات نہیں ہیں''۔

انھوں نے تقریر میں ''نئے آئین کی تکمیل کے لیے آگے بڑھنے اور پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کی ضرورت پر زوردیا''۔ واضح رہے کہ جنرل السیسی نے آیندہ صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے اور وہ ممکنہ طور پر صدارتی امیدوار ہوسکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے کویتی اخبار السیاسۃ کے اس سوال پر کہ کیا وہ صدارت کے لیے امیدوار ہوں گے،جنرل سیسی نے کہا تھا:'' اگر اس سے تمام لوگ مطمئن ہوتے ہیں اور بعض غیر ملکی طاقتیں بھی مطمئن ہوں گی اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اس سے مصر کے مسائل کے حل کے لیے کام کیا جائے گا تو ان میں سے کسی بھی ایک معاملے میں دیکھیے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوتا ہے''۔

59سالہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی کو مصر کے جمہوری طور پر منتخب پہلے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا چند ایک عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد تختہ الٹ دیا تھا اور انھیں پابند سلاسل کردیا تھا۔ان کے حامی ان سے تب سے آیندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

تجزیہ کار مصری فوج کی سابقہ تاریخ کے پیش نظر یہ قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ اگر جنرل السیسی نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو وہ جیت بھی جائیں گے اور صدارت پر ایک مرتبہ پھر فوج کا قبضہ ہوجائے گا۔یادرہے کہ مصر میں 1952ء میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد سے مسلح افواج ہی کی حکمرانی یا ریاستی امور میں بالادستی قائم رہی ہے اور انھوں نے ایک منتخب صدر کو پورا ایک سال بھی برداشت نہیں کیا اور انھیں چلتا کیا تھا۔