.

مصر: اعتدال پسند مبارک دور واپس آنے کے خوف کا شکار

اخوان کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا فیصلہ نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں جوں جوں وقت اعلان شدہ انتخابی عمل قریب آ رہا ہے مصرکی اعتدال پسند قرار دی جانے والی سیاسی جماعتوں میں بھی یہ خوف بڑھ رہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر حسنی مبارک اور ان کے ساتھیوں کے غلبے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

تیس برس تک مصر پر حکمرانی کرنے والے مطلق العنان حسنی مبارک کو 2011 میں عرب بہاریہ کے نام سے شروع ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔ ان کی حکومت پر کرپشن، اقربا پروری کے الزامات تھے۔ اسی وجہ انہیں اور ان کے خاندان کو آج بھی مقدمات کا سامنا ہے۔

لیکن اس کے باوجود جنرل سیسی کی حمایت یافتہ عبوری حکومت کا حصہ بننے اور اس کی ہر طرح سے تائید کرنے والی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ 73 سالہ محمد ابوالغار کا کہنا ہے کہ '' حسنی مبارک کے وفادار دستوری و انتخابی اصلاحات کے نتیجے میں پھر سے اقتدار میں آ سکتے ہیں۔''

انہوں نے اپنے اس خدشے کا اظہار مجوزہ نئے دستور کے حوالے سے کیا ہے جسے ان عبوری حکومت کی نامزد کردہ 50 رکنی کمیٹی تیار کر رہی ہے اور جس کی منظوری ریفرنڈم میں ماہ جنوری کے دروان لیے جانے کا امکان ہے۔

ابوالغار کے بقول نیا مجوزہ دستور اس سلسلے میں حسنی مبارک کے وفاداروں کیلیے مددگار ہو گا کہ اس کے ذریعے سیاسی جماعتوں کے بجائے امیدواروں کو انفرادی طور پر انتخاب میں حصہ لینے کا موقع دینے کی سفارش کی جا رہی ہے۔

اس سے پہلے مصر کا نظام انتخاب متناسب نمائندگی اور براہ راست نمائندگی کا امتزاج ہے۔ مصری پارلیمان کی 508 نشستوں کے دوتہائی نشستوں کیلیے متناسب نمائندگی کا طریقہ رائج ہے جبکہ بقیہ نشستوں کیلیے عمومی انداز میں انفرادی امیدواروں کے درمیان انتخابی مقابلے ہوتے ہیں۔

ابوالغار کا کہنا ہے کہ ''اس وقت اس بات کی زور دار کوشش ہے کہ متناسب نمائندگی کے طریقے کے بجائے انفرادی طریقہ انتخاب کو رائج کیا جائے۔ '' سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کا مزید کہنا تھا '' براہ راست اور انفرادی انتخاب کرائے گئے تو مصر کے دور دراز اور چھوٹے قصبات میں حسنی مبارک کے حامی جیت سکتے ہیں۔''

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما نے اس حوالے سے خدشہ ظاہر کیا کہ ''حسنی مبارک کے ساتھیوں کو دوبارہ آگے لانے کیلیے مالدار لوگ سرمایہ لگا سکتے ہیں، اس لیے ہمارے جیسے لوگوں کے آگے آنے کا امکان نہیں ہے۔''

آئندہ صدارتی انتخاب سے متعلق ایک سوال پر ابوالغار نے شکایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا '' مصر کے عوام کے پاس اس حوالے سے زیادہ آپشنز نہیں ہوں گی۔''

ان کا کہنا تھا فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے صدارتی امیدوار بننے کا جہاں تک تعلق ہے '' اگر جنرل سیسی نے صدارت کیلیے انتخاب میں حصہ لیے کا فیصلہ کیا تو میرا ووٹ ان کے لیے ہو گا ۔'' انہوں نے واضح کیا کہ اسلام پسندوں کے مقابلے میں وہ ایک فوجی کو ووٹ دینا پسند کریں گے۔

ابوالغار کیلیے یہ بات کافی حوصلہ شکن تھی کہ اسلام پسند اخوان اور فوج سیاسی میدان کو سکیڑ رہی ہیں جس کی وجہ سے اعتدال پسند مزید تنہائِی کا شکار ہو گئے ہیں۔'' واضح رہے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی عبوری حکومت کا حصہ ہے۔

دوسری طرف اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون جس نے مبارک دور کے ہونے والے ہر انتخاب میں جیت حاصل کی تھی ابھی عبوری حکومت نے اسے انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اگرچہ اخوان المسلمون پر پابندی عاید کر دی گئی ہے اور اس کی ساری قیادت جیلوں بند ہے۔