.

مصر: متنازعہ قانون کے نفاذ کے بعد طلبہ کا پہلا مظاہرہ منتشر

سکیورٹی فورسز کی طلبہ مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سکیورٹی فورسز نے جامعات کے طلبہ کے حکومت مخالف مظاہرے کو اشک آور گیس کی شیلنگ کے ذریعے منتشر کر دیا ہے۔

جامعہ الازہر اور قاہرہ کے جنوب میں واقع جامعہ الاسیوط کے طلبہ نے صدر عدلی منصور کی جانب سے مظاہروں پر قدغنیں لگانے کے لیے منظور کردہ قانون کے ایک روز بعد یہ مظاہرہ کیا ہے۔انھوں نے فوج اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی مگر اس دوران سکیورٹی فورسز نے انھیں زبردستی منتشر کر دیا۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے اس قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے وکلاء اور سیاسی کارکنان کی جانب سے پیش کردہ درخواستوں پر قاہرہ میں وکلاء سینڈیکیٹ اور جیزہ میں اسٹیٹ کونسل کے باہر مظاہرے کی اجازت دے دی ہے۔

وزارت داخلہ نے فیس بُک پر اپنے سرکاری صفحے پر جاری کردہ بیان میں تمام افراد پر زور دیا ہے کہ وہ قانون میں وضع کردہ قواعد وضوابط کی پاسداری کریں اور ان دونوں مظاہروں کو محفوظ بنانے کے لیے سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں ،ٹریفک کی روانی میں خلل نہ ڈالیں اور شہریوں کے مفادات کو بھی نقصان نہ پہنچائیں۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک میں عبوری حکومت اور فوج کے خلاف جاری مظاہروں کو محدود کرنے کے لیے اتوار کواس متنازعہ قانون کی منظوری دی تھی اور اس کے نافذ العمل ہونے کے بعد مظاہرین کو عوامی مقامات پر اجتماعات منعقد کرنے سے قبل پیشگی اجازت لینا ہوگی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے شہریوں کا اجتماع اور پُرامن احتجاج کا حق سلب ہو کررہ گیا ہے۔انھوں نے اس متنازعہ قانون کے خلاف بھی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش ''6 اپریل تحریک'' کے روح رواں احمد مہلر کا کہنا ہے کہ ''اس غیر منصفانہ قانون کو توڑا جائے گا''۔

مصر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی انیس تنظیموں کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے اس قانون میں بعض ترامیم کے باوجود اب بھی اس کے ذریعے پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لامحدود اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔

احتجاجی مظاہروں پر قدغنیں لگانے کے لیے اس قانون کا مسودہ فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے تیار کیا تھا۔اس پر ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک بحث مباحثہ ہوتا رہا ہے اور اس کو ملک میں گذشتہ تین ماہ سے جاری ہنگامی حالت کے خاتمے کے دس روز کے بعد نافذ العمل کیا گیا ہے۔تاہم ابھی اس کی تمام تفصیل منظرعام پر نہیں آئی ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد قائم کی گئی حکومت شہری آزادیوں پر پہلے ہی قدغنیں لگانے کی کوشش کرچکی ہے اور حکومت مخالفین کو آزادانہ طور پر احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں ہے۔