.

یمن: ایک روسی فوجی مشیر ہلاک، ایک زخمی

فضائی حملے میں القاعدہ کے 12 عسکریت پسند ہلاک: وزارت داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں بندوق برداروں نے روس کے ایک فوجی مشیر کو گولی مار کر ہلاک اور دوسرے کو زخمی کر دیا ہے۔ غیر ملکی فوجی مشیروں پر حملے کا یہ واقعہ منگل کے روز اس وقت پیش آیا جب وزارت داخلہ نے یمن کے جنوب میں ایک فضائی حملے کے دوران القاعدہ سے وابستہ 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا۔

یمنی پولیس کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے، تاہم حملہ آور کارروائی کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ ابھی تک اس واقعے کی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول کی ہے نہ ہی سرکاری طور پر کچھ معلوم ہو سکا ہے کہ اس واردات میں کون ملوث ہے۔

روسی فوجی ماہرین یمنی فوجیوں کو تربیت دینے کیلیے دارالحکومت صنعا میں مقیم ہیں ۔ فوجی مشیر دارالحکومت کے جنوبی علاقے میں ایک ہوٹل سے نکلے تھے کہ نشانہ بن گئے۔

اسی اثناء میں یمن میں روسی سفارتخانے کے ایک ذمہ دار نے کسی روسی فوجی مشیر کے مارے جانے کی تصدیق کرنے سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ اس کی'' تصدیق نہیں کر سکتے''، تاہم اس ذمہ دار نے یمن میں روسی فوجی مشیروں کی موجودگی کی تردید کی اور کہا ان دنوں کوئی ایسا مشیر یمن میں نہیں ہے۔

یمنی فوج دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے غیر ملکی فوجی ماہرین پر ایک عرصے سے بھروسہ کرتی آئی ہے، تاہم اس سلسلے میں اب کم ہی پروگرام چل رہے ہیں۔

سرکاری حکام عام طور پر اس نوعیت کی کارروائیوں کی ذمہ داری القاعدہ سے منسلک گروپوں پر ڈالتے ہیں۔ پچھلے ماہ اکتوبر میں موٹر سائیکل سوار نقاب پوش عسکریت پسندوں نے یمنی فوج کے ایک بریگیڈئیر جنرل کو ہلاک کر دیا تھا۔

منگل کی صبح صنعا میں وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے جنوبی صوبے آبیان میں ایک فضائی کارروائی کے دوران القاعدہ سے منسلک 12 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ابھی مزید اطلاعات کا انتظار ہے۔

یمن چونکہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا آبائی وطن ہے اس لیے امریکا اسے انتہائی خطرناک قرار دیتا ہے۔ امریکا سمجھتا ہے کہ القاعدہ یمن میں منظم ہو رہی ہے۔