.

شام:دمشق اور حلب میں پولیو پھیلنے کی تصدیق

مشرقی صوبہ دیرالزور کے بعد دوبڑے شہروں میں بھی مہلک وائرس پھیل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خانہ جنگی کا شکار ملک شام کے دومزید نئے علاقوں میں مہلک مرض پولیو کا وائرس پھیلنے کی تصدیق کردی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے منگل کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ شامی دارالحکومت دمشق کے نواح اور شمالی شہر حلب میں پولیو کا ایک ایک نیا کیس سامنے آیا ہے۔اس سے پہلے ڈبلیو ایچ او نے مشرقی صوبے دیرالزور میں پولیو کے پندرہ کیسوں کی تصدیق کی تھی۔

گذشتہ ماہ اس ناقابل علاج وائرس سے تیرہ بچوں کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی تھی اور یہ تمام بچے جسمانی طور پرمعذور ہوچکے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ شام میں جاری لڑائی کی وجہ سے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم متاثرہوئی ہے جس سے اس مہلک وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ترجمان سونا باری کا کہنا ہے کہ پولیو کا وائرس حلب پہنچ چکا ہے جہاں صدر بشارالاسد کی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحت اس ادارے نے گذشتہ ماہ شام میں پولیو سے متاثرہ بائیس کیسوں کی تحقیقات کی تھی۔ان میں سے دس کو پولیو کے لاحق ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔یہ بچے پولیو کی قسم اول کا شکار ہوئے ہیں۔پولیو ایک وبائی مرض ہے اور مریضوں کی نقل وحرکت کی وجہ سے یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتا ہے۔

پولیو کا مرض وائرس سے لاحق ہوتا ہے۔بالعموم آلودہ ماحول ،گندگی اور انسانی فضلات سے یہ پھیلتا ہے اورعام طور پر بچوں میں ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔پولیو کا وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے اور یہ گھنٹوں میں اعصابی نظام کو ناکارہ کرکے جسمانی اعضاء کو مفلوج کردیتا ہے۔ بچوں میں معذوری کی صورت میں اس کی علامات ظاہرہوتی ہیں اور اس سے قبل اس کا مریض میں ہرگز بھی پتا نہیں چلتا ہے۔

شام میں 1999ء کے بعد پولیو کا وائرس پھیلا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق آیندہ چھے ماہ کے دوران شام اور اس کے پڑوسی ممالک میں دو کروڑ سے زیادہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔شام میں جاری خانہ جنگی سے قبل پولیو کے قطرے پلانے کی شرح 90 فی صد تھی لیکن اب یہ کم ہو کر 68 فی صد رہ گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ،افغانستان اور نائیجیریا میں پولیو کا مرض وبائی شکل اختیار کرچکا ہے اور ان ممالک میں گذشتہ پچیس سال سے جاری مہم کے باوجود اس مہلک وائرس پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔