.

ایران اور ترکی کا جنیوا 2 سے قبل شام میں جنگ بندی کا مطالبہ

شامی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں:ایرانی اور ترک وزیرخارجہ کی نیوز کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور ترکی نے جنیوا میں 22 جنوری کو دوسری امن کانفرنس کے انعقاد سے قبل شام میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بدھ کو تہران میں اپنے ترک ہم منصب احمد داؤد اوغلو کے ساتھ بات چیت کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ہماری تمام کوششوں کا محور شام میں جاری تنازعے کا خاتمہ اور اگر ممکن ہوتو جنیوا دوم امن کانفرنس کے انعقاد سے قبل جنگ بندی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ مختلف ایشوز کے حوالے سے ایران اور ترکی کا مؤقف یکساں ہے اور ان کے نزدیک شامی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔اس موقع پر احمد داؤد اوغلو نے بھی شام میں جنگ بندی کے لیے کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔

ترک وزیرخارجہ نے کہا کہ ''ہمیں ان دو مہینوں کے دوران انتظار نہیں کرنا چاہیے اور شامی عوام کو مزید مصائب سے دوچار ہوتے ہوئے نہیں دیکھتے رہنا چاہیے۔جنیوا دوم سے قبل جنگ بندی کی راہ ہموار کی جانی چاہیے تاکہ وہاں مجوزہ مذاکرات کامیاب ہوسکیں''۔

واضح رہے کہ ایران اور ترکی شام میں جاری بحران کے حوالے سے بالکل متضاد مؤقف رکھتے ہیں۔ایران شامی صدر بشارالاسد کی دامے،درمے ،سخنے حمایت کررہا ہے جبکہ ترکی ان کا تختہ الٹنے کے لیے برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی ہر طرح سے مدد کررہاہے۔

شامی حزب اختلاف بھی ایران پر صدر بشارالاسد کو فوجی امداد مہیا کرنے اور باغیوں کے خلاف لڑائی کے لیے افرادی قوت بھیجنے کے الزامات عاید کرتی چلی آرہی ہے جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ شام کو صرف اقتصادی امداد مہیا کررہا ہے۔البتہ اس نے شام میں اپنے مشیروں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا ہے۔اس صورت حال میں ان دونوں ممالک کی شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کوششیں بارآور ہوتی نظر نہیں آتی ہیں۔

اقوام متحدہ ،امریکا اور روس کے زیراہتمام جنیوا میں 22 جنوری کو ہونے والی دوسری امن کانفرنس کے شرکاء کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔شامی حزب اختلاف اس کانفرنس میں ایران کی شرکت کی مخالفت کررہی ہے جبکہ شام کے لیے عالمی ایلچی الخضر الابراہیمی کا کہنا ہے کہ جنیوادوم مذاکرات میں تمام ہمسایہ ممالک اور متعلقہ فریقوں کو شرکت کرنی چاہیے۔