.

شامی حکومت جنیوا میں اقتدار سے دستبردار نہیں ہوگی

امن کانفرنس میں شرکت کا مقصد شام میں''دہشت گردی'' کا خاتمہ ہوگا:وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت 22 جنوری کو جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت تو کرے گی لیکن اس میں صدر بشارالاسد اقتدار سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

یہ بات شامی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بدھ کو سرکاری خبررساں ایجنسی سانا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''صدر بشارالاسد کے حکم اور شامی عوام کے مطالبے پر ایک سرکاری وفد جنیوا دوم امن کانفرنس میں شرکت کرے گا اور اس کا ترجیحی مقصد ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا''۔

اس ذریعے کا کہنا ہے کہ ''شامی وفد اقتدار کسی کے حوالے کرنے کے لیے جنیوا نہیں جائے گا بلکہ وہاں ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کرے گا جو شامی عوام کے مفادات کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور جو شام کے مستقبل کے حوالے سے سیاسی حل کی حمایت کرتے ہیں''۔

اس ذریعے کا مزید کہنا تھا کہ ''ہمارے عوام کسی کو اپنے حقوق پر ڈاکا ڈالنے ،ملک کے مستقبل یا اس کے لیڈروں کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور جنیوا (کانفرنس) کی کلید شامیوں کے حقوق کا تحفظ ہے نہ کہ ان لوگوں کا تحفظ جو لوگوں کا خون بہارہے ہیں''۔

انھوں نے برطانوی،فرانسیسی اور دوسرے ممالک کی خارجہ امور کی وزارتوں اور عرب دنیا میں ان کے ایجنٹوں پر کڑی تنقید کی جو اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ صدر بشارالاسد کی عبوری دورحکومت میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

''شامی وزارت خارجہ انھیں باور کرانا چاہتی ہے کہ نوآبادیات کا دور لد چکا ہے اور انھیں اب جاگ جانے کی ضرورت ہے ورنہ ان کے لیے جنیوا دوم میں شرکت بے فائدہ رہے گی''۔اس ذریعے کا کہنا تھا۔

شام کی جانب سے اقوام متحدہ ،روس اور امریکا کے زیر اہتمام جنیوا میں ہونے والی مجوزہ امن کانفرنس کے حوالے سے یہ پہلا باضابطہ ردعمل ہے۔اس کانفرنس میں فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس کے بہ قول صدر بشارالاسد یا حزب اختلاف کے ریڈیکل گروپ شرکت نہیں کریں گے۔

انھوں نے گذشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا کہ''جنیوا دوم کانفرنس کا مقصد آرام دہ کرسیوں پر بیٹھ کر محض تبادلہ خیال کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے دوران بشارالاسد کے بغیر حکومت کے نمائندوں اور اعتدال پسند حزب اختلاف کے درمیان عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے باہمی سمجھوتا طے پانا ہوگا''۔

شامی حزب اختلاف اس کانفرنس میں شرکت سے قبل صدر بشارالاسد کی رخصتی کی یقین دہانی کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بشارالاسد اقتدار چھوڑدیں اور ان کی جگہ ایک عبوری حکومت قائم کی جائے مگر اسد حکومت اس مطالبے کو مسترد کرچکی ہے اور وہ ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے جنیوا میں ہرگز کوئی بھی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

شامی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے سربراہ جنرل سلیم ادریس کا کہنا ہے کہ ان کی وفادار باغی فورسز جنیوا مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گی اور وہ بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔