.

عرب لیگ میں شامی اپوزیشن شام کی نمائندگی کریگی

ابھی تک جنیوا ٹو میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا: احمد الجربا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کیخلاف سرگرم متحدہ اپوزیشن عرب لیگ کی مکمل رکن بن گئی ہے۔ بائیس رکنی عرب لیگ نے متحدہ اپوزیشن کو شام کی حقیقی نمائندہ تسلیم کرتے ہوئے ماہ مارچ میں عرب ملکوں کے اس اہم فورم کی رکنیت دینے کا اعلان کر دیا تھا۔

تاہم باضابطہ طور پر متحدہ اپوزیشن کی طرف سے عبوری حکومت کی تشکیل کا انتظار تھا۔ اس شرط کے پورا ہو جانے کے بعد اب عرب لیگ میں شام کی نشست اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو مل جائے گی۔

واضح رہے عرب لیگ نے بشارالاسد کی طرف سے اپنے ہی عوام کے خلاف شروع کی ہوئی جنگ کے بعد سے بشارالاسد حکومت کو عوام اور ریاست کے حقیقی نمائندے کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔

شامی متحدہ اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا نے ایک عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ عرب لیگ کے آئندہ اجلاس میں وہ شام کے نمائندے کے طور پر خطاب کریں گے۔

احمد الجربا نے عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی سے بات چیت کے دوران جنیوا ٹو کے حوالے سے کہا '' متحدہ اپوزیشن نے شام کیلیے امن کانفرنس میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ ابھی نہیں کیا ہے۔''

خیال رہے جنیوا ٹو کانفرنس کی تاریخ 22 جنوری طے کی گئی ہے لیکن ابھی تک شامی اپوزیشن بشارالاسد کے بارے میں واضح یقین دہانی حاصل نہیں کر سکی ہے۔ اس لیے اس نے اپنی شرکت کا فیصلہ موخر رکھا ہے۔

احمد الجربا کا اس بارے میں موقف ہے کہ ''عالمی برادری کو اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کے لیے بشارالاسد پر اعتماد سازی کے اقدامات کرنے کیلیے زور دینا ہو گا۔''

ایک سوال کے جواب میں شامی اپوزیشن کے سربراہ نے کہا '' اپوزیشن نے جنیوا ٹو میں شرکت کی ضرورت کا اشارہ دیا ہے تاہم ہمارا خیال ہے کہ بشارالاسد رجیم کانفرنس میں شرکت سے گریزاں ہے البتہ روس اس پر شرکت کیلیے دباو ڈال رہا ہے۔''

اس موقع پر انہوں نے اپنی شرائط پر بھی زور دیا کہ '' وہ صر ف اسی صورت شریک ہوں گے کہ عبوری سیٹ اپ میں بشار رجیم کا کوئی کردار ہو گا ۔'' اس سلسلے میں امکان ہے کہ شامی اپوزیشن آئندہ دنوں اپنا مشاورتی اجلاس منعقد کرے گی۔