.

مصر: اخوان کی 14 خواتین کو 11 سال تک قید کی سزائیں

اسکندریہ میں مرسی مخالفین کے ساتھ لڑائی کے دوران چاقو چلانے اور پتھراؤ کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے دینی وسیاسی جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والی چودہ خواتین کو ایک ''دہشت گرد تنظیم'' سے تعلق کے الزام میں قصور وار قرار دے کر گیارہ سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ایک عدالتی ذریعے کے مطابق مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ کی عدالت نے بدھ کو اسی مقدمے میں ماخوذ چھے مردوں کو پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کے لیڈر ہیں۔انھیں عدالتی فیصلے کے فوری بعد جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق عدالت نے ان مردوں کو خواتین کو شہر کی اہم شاہراہوں کو بند کرنے کی ترغیب دینے کے الزام میں قصور وار قرار دیا ہے۔انھوں نے 31 اکتوبر کو برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان اسکندریہ میں جھڑپوں کے دوران مبینہ طور پر خواتین کو سڑکیں بند کرنے پر اُکسایا تھا۔

جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر نے اس سے پہلے اخوان سے تعلق رکھنے والی چودہ خواتین کے خلاف عاید کردہ فرد جرم میں کہا تھا کہ انھوں نے ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان لڑائی کے دوران چاقو استعمال کیے تھے،پتھر پھینکے تھے اور امنِ عامہ میں خلل ڈالا تھا۔