.

مصر: شہریوں کے فوجی ٹرائل کے قانون کیخلاف شدید ردعمل

ملک کو مطلق العنانی کیطرف نہیں جانے دینگے، اخوان بھی سڑکوں پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں انسانی حقوق پر مبینہ قدغن لگاتے ہوئے بنائے گئے نئے قوانین کے تحت ہونے والی گرفتاریوں سے غم وغصہ کی لہر میں تیزی آ گئی ہے۔ سیاسی اور سماجی اعتبار سے متحرک کارکنوں اور 2011 سے شروع تحریک مزاحمت کے وابستگان میں تشویش ہے کہ ملک میں تبدیلی کا عمل روکا جا رہا ہے۔

انہیں گرفتاریوں پر تشوش کے باعث منگل کے روز دستور ساز کمیٹی کے متعدد ارکان نے اپنا کام روک دیا تھا۔ ان کا موقف ہے وہ عبوری حکومت کے تبدیلی مخالف اور انسانی حقوق کے منافی اقدامات کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

نئے قانون کے تحت نہ صرف فوج کو عام شہریوں کیخلاف مختلف مقدمات چلانے کا اختیار دیے جانے کے علاوہ کسی بھی مظاہرے سے پہلے عوام کو حکومت سے پیشگی اجازت لینا ہو گی۔

مصری شوری کونسل کے سامنے احتجاج کرنے والے احمد نجیب نامی ایک سیاسی کارکن نے اس نئے متعارف کرائے گئے قانون پر کہا '' سیاسی کارکن مظاہروں کیلیے پیشگی اجازت لینے کی شرط کو تسلیم کر سکتے ہیں نہ فوج کو شہریوں کے ٹرائل کا حق دیا جا سکتا ہے۔''

واضح رہے اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والی خاتون مونا سیف 2011 میں حسنی مبارک کیخلاف احتجاج کے دوران محروم کر دیے جانے والے مسری دندان ساز احرارا کو بھی گرفتار کو کر لیا گیا ہے، جبکہ مونا سیف نے شہریوں کے فوجی عدالتوں ٹرائل کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔

اس نئے قانون کے خلاف اخوان المسلمون کے لوگ بھی سڑکوں پر ہیں اور ملک کو واپس مطلق العنانی کی طرف لے جانے کیخلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔