.

قاہرہ میں گرفتاریوں پر دستور ساز پینل نے کام بند کردیا

متنازعہ قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد پر پانی کا چھڑکاؤ اور تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے نئے دستور کا مسودہ تیار کرنے والے پینل نے قاہرہ میں پارلیمان کی عمارت کے باہر مظاہرین کی گرفتاریوں پر اپنا کام بند کردیا ہے۔

دستور ساز پینل کی ایک سینیر رکن حدالصدا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ انھوں نے اور نو دیگر ارکان نے مظاہرین کی گرفتاریوں کے بعد اپنا کام معطل کردیا ہے۔

حکام نے پارلیمان سے باہر مظاہرین کو گرفتار کرنے کے بعد تحقیقات کے لیے پراسیکیوشن کے دفتر میں منتقل کردیا ہے۔ان پر دوروز پہلے مظاہروں پر قدغنیں لگانے کے لیے نافذ کردہ متنازعہ قانون کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔مصری فورسز نے قاہرہ میں ایک اور مظاہرے کے شرکاء کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

ایک سکیورٹی عہدے دار کے بہ قول مظاہرین نظرثانی شدہ قانون میں ایک نئی دفعہ کے اضافے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔اس میں فوج کو مختلف کیسوں میں شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

منگل کو گرفتار کیے گئے افراد میں شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے خلاف مہم کی بانی مونا سیف اور سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران دونوں آنکھوں سے محروم ہوجانے والے ڈینٹیسٹ احمد حرارہ بھی شامل ہیں۔

دستورساز پینل کے ایک اور رکن خالد یوسف نے بھی مظاہرین کی گرفتاری پر حکام پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔انھوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں کہا کہ ''جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس سے ملک کا مستقبل خطرے سے دوچار ہوگیا ہے کیونکہ پچاس ارکان پر مشتمل کمیٹی کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے حالانکہ یہ کمیٹی عبوری حکومت کے پیش کردہ نقشہ راہ میں سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے''۔

درایں اثناء حکومت مخالف کارکنان نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر سخت ردعمل کا ظہار کیا ہے۔مونا سیف کے بھائی اور احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش علا عبدالفتاح کا کہنا ہے کہ ''اس سے احتجاج نہیں رکے گا''۔

انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے پہلے مظاہرین پر پانی پھینکا، پھر تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد انھیں گرفتار کرنا شروع کردیا۔حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کے اوائل میں احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے والی 6 اپریل تحریک کے بانی احمد ماہر نے متنازعہ قانون کی تنسیخ کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزارت داخلہ مظاہرے نہیں چاہتی ہے لیکن ہم نے تو حسن مبارک کی حکومت کے خلاف بھی اجتجاج جاری رکھا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے مصر میں نافذ کردہ نئے قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اجتماع کی آزادی خطرے سے دوچار ہوگئی ہے اور سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کا حق حاصل ہوگیا ہے۔اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی نے بھی متنازعہ قانون کی مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد قائم کی گئی حکومت شہری آزادیوں پر پہلے ہی قدغنیں لگانے کی کوشش کرچکی ہے اور حکومت مخالفین کو آزادانہ طور پر احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں ہے۔