ویڈیو:القاعدہ سے وابستہ گروپ کے ہاتھوں شامی باغیوں کا قتل

مخالف جنگجو گروپ کے کمانڈر کو بدعنوانی اور لوٹ مار کے جرم میں سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ ریاست اسلامی عراق وشام (آئی ایس آئی ایل) نے اپنے مخالف باغی دھڑے کے کمانڈر اور اس کے چھے ساتھیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں مخالف باغی گروپ کے جنگجوؤں کے قتل کی ویڈیو انٹرنیٹ پر جاری کی ہے۔اس میں سیاہ لباس میں ملبوس مسلح افراد کو ریاست اسلامی عراق اور شام کے بینر تلے کھڑے دیکھا جاسکتا ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو شام کے شمالی صوبہ ادلب کے قصبے عطارب میں بنائی گئی ہے۔تاہم اس کے مصدقہ ہونے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔اس ویڈیو میں ایک نقاب پوش شخص ایک اعتدال پسند باغی اسلامی گروپ غرباء الشام بریگیڈ کے سات ارکان کا تعارف کرارہا ہے جو زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے ہیں۔ان میں سے ایک کا تعارف اس گروپ کے کمانڈر حسن جزیرہ کے طور پر کرایا گیا ہے۔

القاعدہ کا ایک نقاب پوش شخص مائیکرو فون پر ان کے بارے میں بتا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ حسن جزیرہ بدعنوان اور سب سے بڑا چور ہے۔مجمع میں موجود بعض افراد اپنے موبائل فونز پر ان کو ہلاک کرنے کی فلم بنا رہے ہیں۔

وہ شخص ایک کاغذ سے پڑھ رہا ہے اور بتارہا ہے کہ جزیرہ کے بندوں پر اغوا کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی اور ان کے خلاف ریاست اسلامی عراق وشام کی ایک مذہبی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔اس کے بعد ان کے سروں میں گولی مار دی جاتی ہے۔

حسن جزیرہ اور ان کے ساتھیوں کو ایک ماہ قبل القاعدہ کے جنگجوؤں نے گرفتار کیا تھا۔ان کے یونٹ غرباء الشام کے خلاف مئی میں اسلامی گروپوں کے اتحاد نے کارروائی شروع کی تھی۔ان کے درمیان ایک علاقے پر قبضے پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور جزیرہ کے یونٹ پر لوٹ مار کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا جس کے بعد ان کے بہت سے جنگجو ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔

واضح رہےکہ القاعدہ سے وابستہ اس تنظیم کے جنگجوؤں نے اگست میں ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شمالی قصبے اعزاز پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے جیش الحر کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا تھا۔

آئی ایس آئی ایل سے وابستہ جنگجوؤں نے گذشتہ جمعہ کو ایک اور شمالی قصبے أطما میں اعتدال پسند اسلامی جماعت صقورالاسلام کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بول دیا اور وہاں اپنا کنٹرول قائم کر لیا تھا۔انھوں نے صقورالاسلام کے سربراہ مصطفیٰ وضاح کو ان کے پچیس تیس ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد سے ان کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے اور انھیں شاید آئی ایس آئی ایل کے ایک اور مضبوط گڑھ دانا میں منتقل کردیا گیا ہے۔اس قصبے میں اس تنظیم نے اپنی عدالتیں قائم کررکھی ہیں جہاں مشتبہ افراد کے خلاف سرسری سماعت کے بعد سزائیں سنا دی جاتی ہیں۔

شام کے شمالی علاقوں میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر مغربی ممالک تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔القاعدہ جنگجوؤں کی حالیہ کارروائیوں کے بعد صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف برسرپیکار مقامی باغیوں کی مزاحمتی جنگ محدود ہوتی جارہی ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی شامی صدر کی مخالفت میں کمی واقع ہورہی ہے اور اب مغربی ممالک اس طرح زورشور سے ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں جس طرح کہ وہ پہلے کررہے تھے بلکہ اب وہ قریب قریب اس مطالبے سے دستبردار ہوتے نظر آرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں