.

لیبیا: فوجی اسلحہ ڈپو پر حملہ، 40 ہلاک

اقوام متحدہ اپنے سٹاف کی حفاظت کیلیے خصوصی دستہ بھیجے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے جنوب میں قائم فوجی اسلحہ ڈپو میں آگ بھڑکنے سے بھاری مقدار میں اسلحہ کی تباہی کے علاوہ کم از کم چالیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ اسلحہ ڈپو ایک ائیر بیس سے متصل قائم تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی لیبیا کے قصبے بارک الشاتی میں اس اسلحہ ڈپو میں زیادہ تر وہ اسلحہ اور بارود رکھا جاتا تھا جو ٹینکوں کی جنگی ضرورتوں میں استعمال ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں فوجی ذمہ دار جنرل محمد الدھابی کا کہنا تھا '' نامعلوم افراد کے ایک گروہ نے اسلحہ ڈپو پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔''

لیبیا کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نامعلوم افراد افریقی پناہ گزینوں کے ساتھ مل کر اسلحہ چوری کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ بعد ازاں اس کا تانبا الگ کر کے فروخت کر سکے۔ اسی دوران دھماکے ہونا شروع ہو گئے۔

سرکاری ٹی وی نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی ہے، تاہم کہا ہے کہ کافی نقصان کا اندیشہ ہے۔

لیبیا میں ہونے والے دہشت گردی کے ایک اور واقعے میں متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں ۔ یہ واقعہ لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی کے مشرق میں پیش آیا ہے۔ واضح رہے غازی میں پچھلے کے روز سے اور عسکریت پسندوں کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے۔

لیبیا کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث اقوام متحدہ نے اپنے کارکنوں کی حفاظت کیلیے 235 اہلکاروں پر مشتمل خصوصی دستہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔