.

مصر: ٹریفک میں خلل ڈالنے پرخواتین کو سزائے قید

14 خواتین 11 سال کیلیے بچیوں سمیت قید، مرسی مخالف بھی چیخ اٹھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سیاسی حلقوں، انسانی حقوق کیلیے سرگرم اداروں اور گلی محلوں میں ان دنوں وہ خواتین اور بچیاں گفتگووں کا موضوع ہیں جنہیں معزول صدر مرسی کے حق میں مظاہرے کے دوران ٹریفک کے نظام میں خلل ڈالنے پر گیاہ گیارہ سال سزائے قید سنائی گئی ہے۔

ان خواتین کی تعداد 14 ہے اور ان میں بعض مائیں اور ان کی بچیاں بھی شامل تھیں۔ انہی میں سے سات بچیوں کو بھی جیل بھیجا گیا ہے البتہ ان کو اپنی ماوں سے الگ کمسنوں والی جیل میں رکھا گیا ہے۔ سیاسی اعتبار سے مرسی کے مخالف حلقے بھی ان سزاوں کو آئندہ دنوں عوامی سطح پر اشتعال کا سبب بنتا دیکھتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کیلیے تشویش کی بات یہ ہے کہ محض چند ماہ قبل ایک پولیس اہلکار کو ایک لڑکی کو سنائیپر سے تاک پر گولی مار کر قتل کرنے پر صرف تین سال سزا سنائی تھی۔ اس پولیس اہلکار نے حسنی مبار کے خلاف 2011 میں مظاہرہ کرنے والی لڑکی کو ہلاک کیا تھا لیکن فیصلہ چند ماہ پہلے اور وہ بھی تین سال قید کا آیا۔

لیکن اب ٹریفک میں خلل ڈالنے پر ایک یا دو نہیں پوری 14 مصری خواتین کو گیارہ گیارہ برس قید سنادی گئی ہے۔ جبکہ کم سن لڑکیوں کے لیے بھی جیل کی سزا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے صنفی امتیاز کا معاملہ بھی سمجھتی ہیں اور بنیادی انسانی انسانی حقوق کے مقابلے قانون کے بے رحمانہ پن کا بھی۔

عبوری دور کے عدالتی فیصلے سے متاثرہ ایک شہری رمضان عبدالحمید جس کی اہلیہ اور بیٹی دونوں کو جیل کی سزا ملی ہے کا کہنا ہے'' میرے لیے یہ فیصلہ صدمے سے کم نہ تھا ، میں سوچ بھی سکتا تھا کہ مصر میں اپنی ہی بیٹیوں کو جیلوں میں بند دیکھیں گے کہ حکمران بچیوں کو بھی ملکی سلامتی کیلیے خطرہ سمجھنے لگیں گے۔''

رمضان عبدالحمید کی 15 سالہ بیٹی روادا اور اہلیہ سلوا ان دنوں جیل میں ہیں اور وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے ''کیا اس طرح مصر میں سکون آ سکے گا ؟''

واضح رہے مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے ملک میں جمہوری حقوق کی طرف بڑھنے کیلیے ایک روڈ میپ دے رکھا ہے جس کے تحت اگلے سال کی پہلی ششماہی میں انتخابی عمل بشمول صدارتی انتخاب مکمل کرانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

دوسری طرف منتخب حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا نے مصر کی کچھ فوجی امداد کم کر دی ہے تاکہ فوج کو جمہوری حقوق کے حوالے سے دباو میں رکھا جا سکے۔

معزول صدر مرسی کے کٹر مخالف اور بائیں بازو کے رہنما حمید صباحی نے خواتین کو لمبی قید سناتے ہوئے جیل بھیجنے کی مذمت کرتے ہوئے صدر سے مطالبہ کیا ہے یہ سزا معاف کی جائے۔

سیاسی حلقوں میں یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ حسنی مبارک اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مظاہرین کے قتل اور بھاری کرپشن کے مقدمات انہی عدالتوں میں کچھوے کی چال سے چل رہے ہیں جبکہ خواتین اور بچیوں کیخلاف محض تریفک میں خلل پر عاجلانہ فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

اس صورت حال میں جنرل سیسی کے حامی اور اسلام پسندوں کے سخت مخالف بھی تنقید کر رہے ہیں ، خصوصا جب مظاہروں کو روکنے کیلیے عبوری حکومت نے نئے قوانین بھی متعارف کرائے ہیں۔