.

مصر میں اسیر خواتین کے لیے ''سات بجے صبح'' احتجاج

خواتین کو ٹریفک میں خلل ڈالنے پر گیارہ سال قید سنائی گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج پہلی مرتبہ مصر میں ان اسیر خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منا یا جا رہا جنہیں عبوری حکومت کی عدالت نے ٹریفک میں خلل ڈالنے پر گیارہ گیارہ سال قید کی سزا دی ہے۔

ان خواتین کے ساتھ سات نو عمر بچیاں بھی جیل میں بند کی گئِی ہیں تاہم ان بچیوں کو ان کی ماوں کے ساتھ نہیں بلکہ الگ رکھا جائے گا۔

اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے ان خواتین کی قید کیخلاف آج ہفتے کی ''صبح سات بجے'' کے نام سے احتجاج کی کال دی ہے۔

اس سے پہلے جمعہ کے روز مصر میں عبوری حکومت کے سو دنوں کے دوران اس کے ہاتھوں کی گئی گرفتاریوں اور سیاسی کارکنوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجا ج کیا گیا۔ احتجاج کرنے پر کم از کم 180 مزید سیاسی کارکن گرفتار کر لیے گئے۔

اس موقع پر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں ایک پولیس تھانہ نذر آتش کر دیا گیا، اس دوران ایک نوجوان ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔

اسیر خواتین کے حق میں مصر کی سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق ک تنظیموں اور سماجی سطح پر عبوری حکومت اور فوج پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، تاہم ان خواتین کے حق میں آج پہلا احتجاج صبح سویرے سامنے آرہا ہے۔

یہ احتجاج صبح سات بجے ایک ہی وقت میں مصر کے مختلف مقامات پر منظم کیے جانے اطلاعات ملی ہیں۔ اس سلسلے میں قاہرہ اور سکندریہ میں زیادہ احتجاج کی توقع کی جا رہی ہے۔