.

ترکی و ایران کے حساس اداروں کے درمیان تعلقات کا اعتراف

انقرہ میں ایرانی سفیر نے ترکی کے انکار کے باوجود اقرار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایران کے سفیر علی رضا نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ ایران اور ترکی کے درمیان انٹیلی جنس سے متعلقہ اداروں کا تعاون موجود ہے۔

انقرہ میں ایرانی سفیر یہ بات اس وقت کہی ہے جب چندروز قبل ترکی امریکی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کی تردید کر چکا ہے۔

مبصرین نے ایرانی سفیر کے اس اعتراف کو علاقے کی دو اہم طاقتوں کے درمیان اس نوعیت کے تعلقات کو ایک انتباہ قرار دیا ہے۔

ایران کے سفیرکا رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا '' ایران اور ترکی کے حساس و سکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون موجود ہے۔'' تاہم انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ ایران ترکی میں جاسوسی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ سفیر کا کہنا تھا '' ایسی کوئی بنیاد نہیں ہے۔''

واشنگٹن پوسٹ نے ماہ اکتوبر میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا '' ترکی نے گزشتہ سال ایران کے حساس ادارے کوایسے دس ایرانی شہریوں کے نام اور کوائف فراہم کیے تھے جو ترکی میں اسرائیلی موساد کے ساتھ رابطے میں تھے۔''

اسرائیل اور ترکی کے درمیان خوشگوار تعلقات کو اس وقت نقصان پہنچا تھا جب اسرائیل نے 2010 میں غزہ کیلیے امدادی سامان لے کر جانے والے فلوٹیلا پر حملہ کر دیا تھا۔

واضح رہے ترکی نے مشرق وسطی میں اپنے آپ کو بتدریج تنہائی میں محسوس کرتے ہوئے ایران سے روابط بڑھانے کی کوششش کی ہے۔ اسی ہفتے ترک وزیر خارجہ نے ایران کا دورہ کیا ہے اور اگلے سال ترک وزیر اعظم طیب ایردوآن بھی ایران جانے والے ہیں۔