.

جوہری تنصیبات سرخ لکیر ہیں، افزودگی جاری رہے گی: روحانی

امریکا سے کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں: فنانشل ٹائمز کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے دو ٹوک انداز میں اپنی ایٹمی تنصیبات کو کسی قیمت پر تباہ نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں اپنی سرخ لکیر قرار دیا ہے۔ ایران کے صدر نے اس امر کا اظہار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل اور امریکا کے قدامت پسند ارکان کانگریس کا اصرار ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام روک دے۔

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے یہ دوٹوک موقف ایک ایسے موقع پر اختیار کیا ہے جب عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر جنیوا میں معاہدے کو ایک ہفتہ مکمل ہوا ہے۔

اسرائیل اس معاہدے کو عالمی طاقتوں کی تاریخی غلطی قرار دے رہا ہے اور امریکا کے اپنے قانون سازوں نے بھی ایران سے اس معاہدے پر عمل درآمد کرانے کیلیے اسے پابندیوں کے دباو میں رکھنے پر زور دیا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے حسن روحانی سے پوچھا '' کیا ایران اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرے گا ''؟ ایرانی صدر کا اس بارے میں جواب تھا '' ایران یورینیم کی افزودگی کواپنی ایندھن کی ضرویات کے پیش نظر جاری رکھے گا، یہ سو فیصد ہماری سرخ لکیر ہے۔''

امریکا کے ساتھ مستقبل میں اپنے تعلقات کے سوال پر انہوں نے کہا '' ہم اس مرحلے پر کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں اور بتدریج باہمی اعتماد کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں، پچھلے 35 برسوں کے دوران پیدا شدہ مسائل کو ختم ہونے میں وقت لگے گا۔''

ایرانی صدر نے کہا ''اہم آزمائش جنیوا معاہدے عمل درآمد کے حوالے سے ہو گی کہ ہم باہمی اعتماد قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں، اس معاہدے پر پوری ذمہ دارانہ احتیاط سے عمل کرنا ہو گا۔''

جوہری توانائی سے متعلق عالمی ادارے کیلیے ایرانی نمائندے رضا نجفی کا کہنا ہے کہ '' ماہ دسمبر کے اواخر یا جنوری کے اوائل میں ہم جنیوا معاہدے پر عمل کا آغاز کر سکیں گے۔''