.

لبنان:فرقہ وارانہ لڑائی میں 6 افراد ہلاک ،37 زخمی

طرابلس میں شام میں جاری خانہ جنگی پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوج تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں ہفتے کے روز اہل سنت اور علویوں کے مسلح جنگجوؤں میں ایک مرتبہ پھر لڑائی چھڑ گئی ہے اور ان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چھے افراد ہلاک اور نو فوجیوں سمیت سینتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

طرابلس میں تازہ لڑائی پڑوسی ملک شام کے صدر بشارالاسد اور ان کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی حمایت اور مخالفت کی بنا پر شروع ہوئی ہے۔لبنان کے اہل سنت شام کے باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحرکی حمایت کر رہے ہیں جبکہ علوی اپنے ہم مذہب صدر بشارالاسد کے حامی ہیں اور لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ بھی شامی صدر کی حمایت کررہی ہے۔

لبنان کے نگران وزیراعظم نجیب میقاتی نے طرابلس میں جھڑپوں کے بعد وزیر داخلہ اور دوسرے سکیورٹی عہدے داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا ہے اور ان سے تشدد کے خاتمے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

لبنانی میڈیا نے فائرنگ میں مرنے والوں میں سے تین کے نام عبدالرحمان مرحی عمر سولہ سال ،التقویٰ مسجد کا محافظ عمر حسناوی اور رمزیہ الذہبی بتائے ہیں اور وہ نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں سے لڑائی چھڑنے کے قریباً دس گھنٹے کے بعد بھی فائرنگ اور راکٹ گرینیڈز چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

عمر مرحی ایک اسکول کا طالب علم تھا اوراس کا تعلق سنی اکثریت علاقے باب التبانہ سے تھا۔اس کی ہلاکت کے بعد لبنانی فوجیوں نے اس کے اسکول کے باقی طلبہ کو باحفاظت وہاں سے نکال لیا ہے جبکہ شہر میں باقی اسکول آج بند رہے ہیں۔

لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی فائرنگ کی جگہوں کا سراغ لگانے اور ان کا جواب دینے کی کوشش کررہے ہیں اور فائرنگ سے نوفوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

بیان کے مطابق اہل تشیع کے علاقے جبل محسن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص شہر کے ایک سنی علاقے میں فائرنگ سے زخمی ہوگیا تھا۔طرابلس میں جمعرات سے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے اور اس کا آغاز جبل محسن کے مکینوں کی جانب سے صدر بشارالاسد کی حمایت میں شامی پرچم آویزاں کرنے سے ہوا تھا۔

اس کے ردعمل میں باب التبانہ کے مکینوں نے صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے باغی جنگجوؤں کے پرچم آویزاں کردیے تھے۔اس سے پہلے شہر میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے چار علویوں کو زخمی کردیا تھا۔علویوں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی تھی۔

شام کی سرحد سے بیس میل دور واقع ساحلی شہر طرابلس کے سنی آبادی والے علاقے باب التبانة اور علویوں کی آبادی پر مشتمل جبل محسن کے مکینوں کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پرماضی میں بھی خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔گذشتہ سال جون میں ان دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس سال مارچ میں جھڑپوں میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔اس ساحلی شہرمیں اگست میں دو بم دھماکوں میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یادرہے کہ طرابلس کی 80 فی صد آبادی اہل سنت پر مشتمل ہے۔شیعہ علویوں کی تعداد 11 فی صد ہے۔ان دونوں کے درمیان 1975ء سے 1990 تک خانہ جنگی کے دوران بھی جھڑپیں ہوتی رہی تھیں لیکن شام میں مارچ 2011ء کے بعد سے جاری خانہ جنگی کے بعد سے ان دونوں متحارب گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے مسلح تصادم کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔