.

مصر: احتجاج کو روکنے کیلیے نئے قانون کیخلاف اخوان کا احتجاج

قاہرہ سمیت کئی شہروں میں تصادم ، سیکولر رہنما گھر پر نظر بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں احتجاجی مظاہروں پر قدغن لگانے کے لیے نئے متعارف کرائے گئے قانون کے خلاف اخوان المسلمون مصر مختلف شہروں بشمول دارالحکومت قاہرہ کے احتجاج کیا ہے۔

جمعہ کے بعد ہونے والے ان مظاہروں کے دوران اس دوران مختلف جگہوں پر سکیورٹی اہلکاروں اور اخوان کے کا رکنوں کے درمیان تصادم کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران ایک دوران اخوان کے سخت مخالف اور سیکولر سیاسی رہنما علی عبدالفتاح کو انہی نئے قوانین کیخلاف احتجاج کرنے کے باعث گھر پر نظر بند کردیا گیا ہے۔ عبدالفتاح نے 2011 میں مطلق العنان حکمران حسنی مبارک کے خلاف تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اخوان اور اس کی اتحادی جماعتوں نے جمعہ کے روز نے ایک سو دنوں کے دوران سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور ان کی قتل وغارتگری کیساتھ ساتھ نئے قوانین کیخلاف احتجاج کی اپیل کر رکھی تھی ۔

اس اتحاد نے ہفتے کے روز صبح سات بجے احتجاج کرنے پر سزا پانے والی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کا بھی اعلان کیا ہے۔ اخوان نے اس کال کو ''سات بجے صبح'' کا نام دیا ہے۔

واضح رہے کہ مرسی کے حق میں مظاہرہ کرنے پر 14 خواتین اور سات بچیوں کو گیارہ سال قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا تھا۔

وزارت داخلہ نے اعلان کر رکھا ہے کہ سرکار اور پولیس سے اجازت کے بغیر کیے جانے والے مظاہروں کو سختی سی کچلا جائے گا۔
اخوان المسلمون نے اس انتباہ کی پروا نہ کرنے کی حکمت عملی اختیا کر رکھی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مظاہروں کیخلاف قوانین کو رد کر رہی ہیں۔