.

مصر: وزیر دفاع فوج کی پسند کا ہو گا، نیا مسودہ آئین

شہری فوجی عدالت میں پیش ہوں گے، نور پارٹی پر پابندی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عبوری صدر عدلی منصور کی طرف سے قائم کردہ 50 رکنی دستور ساز کمیٹی کے ارکان آج ہفتے کے روز مجوزہ مسودہ آئئِن پر اپنے ووٹ کے ذریعے حتمی رائے دیں گے۔

مصر کے سرکاری میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والے مندرجات کے مطابق نیا مسودہ آئین میں فوج کو کافی مسثنیات اور زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق سے متعلق ماہرین عبوری حکومت کے آئین کے راستے فوج کو زیادہ مضبوط کرنے کی اس کوشش کو ریاست کے اندر ریاست کے تصور کو فروغ دینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

سرکاری اخبار الاہرام نے اپنی ایک تازہ اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ وزیر دفاع کا تقرر مسلح افواج کی سپریم کونسل کی پسند کے مطابق کیے جانے کی تجویز ہے۔ نیز نئے دستور کی منظوری سے مسلح افواج کی سپریم کونسل کی مدت کا آغاز ہو گا اور اس کی مدت اٹھ سال ہو گی۔

نئے دستور میں مذہبی اور دینی بنیادوں پر قائم جماعتوں پر پابندی لگانے کی تجویز ہے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ نور پارٹی پر پابندی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ اس صورت میں نور پارٹی اخوان المسلمون کے بعد دوسری جماعت ہو گی۔

الاہرام کی رپورٹ کے مطابق نئے تیار کرائے گئے دستور میں عام مصریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکے گا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق 50 رکنی دستور ساز کمیٹی میں جمہوریت کے حامی ارکان اس آرٹیکل کے حق میں نہیں ہیں۔ دستور ساز کمیٹی میں یہ ایک اہم وجہ اختلاف ہے۔

عبوری دور کی اس دستور ساز 50 رکنی کمیٹی میں اسلام پسند ارکان کی تعداد محض دو ہے۔ ان میں سے ایک کا تعلق نور پارٹی سے جبکہ دوسرے رکن کا تعلق مرسی مخالف ایک ایسا اخوانی ہے اخوان کی پالیسیوں کا انکار ہے۔

نور پارٹی جسے مجوزہ دستور میں شریعہ کے بارے میں استعمال کردہ زبان پر اعتراض کرتی ہے، لیکن اس کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ انہیں حتمی طور دستوری سفارشات کا انظار ہے، جس کے بعد وہ اپنا رد عمل امنے لائیں گے۔ امکانی طور پر آج مجوزہ مسودہ دستور پر ووٹنگ کے موقع پر فریقین کی اہم اور حساس معاملات پر واضح پوزیشن سامنے آ جائے گی۔