.

کویتی خاتون کی عالمی مسائل کے حل کے لیے اپنی" کرامات" کی پیشکش

کرشماتی علاج سے جرائم کم اور نفسیاتی امراض خاتمے کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی ایک سرگرم خاتون سماجی رہ نما اور اپنے متنازعہ بیانات میں آفاقی شہرت کی حامل سلویٰ المطیری نے"اقوام عالم" کے مسائل کےحل کے لیے اپنی "کرشماتی" کرامات کے ذریعے مدد کرنے کی پیش کش کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسز سلویٰ المطیری کی جانب سے سماجی رابطے کی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ "یوٹیوب" پر انگریزی ترجمے کے ساتھ ایک ویڈیو فوٹیج اپ لوڈ کی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ وہ اقوام عالم کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کے حل میں ان کی مدد کر سکتی ہیں۔ سلویٰ کہ بہ قول " اگرچہ یہ ایک چیلنج ہے لیکن میں دنیا کو یہ چیلنج دے رہی ہوں اور خود بھی اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں"۔

سلویٰ کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف جرمنی، فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، امریکا اور روس جیسے ترقی یافتہ ممالک نہیں بلکہ وہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک ہیں جہاں لوگوں کو طبی، نفسیاتی اور سماجی نوعیت کے ہمہ نوع مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

میں اپنی "کرامات" کے ذریعے ان ملکوں کے عوام کے نفسیاتی مسائل کے حل میں مدد کی متمنی ہوں۔ جو ملک مجھ سے "خدمات" حاصل کرنا چاہتا ہے اسے اپنی وزارت داخلہ اور وزارت صحت کو مجھ سے بھرپور تعاون کرنا ہو گا۔

کویتی خاتون کا کہنا ہے کہ میں جس ملک میں بھی لوگوں کے سماجی اور نفسیاتی مسائل حل کرنے جائیں گی وہاں کی وزارت داخلہ کو اس کے منفی اثرات کے بارے میں پہلے آگاہ کروں گی۔

سلوی المطیری کا دعویٰ ہے کہ"میرےمخصوص طریقہ علاج کے مطابق عمل کرنے سے چند دنوں میں تبدیلی آئی گی، سماجی جرائم غیرمعمولی حد تک کم ہوجائیں گے اور شہریوں کو نفسیاتی امراض سے کافی حد تک نجات مل جائے گی۔ پورا معاشرہ سکون کا سانس لے گا۔

خیال رہےکہ کویتی سماجی رہ نما سلویٰ المطیری ماضی میں بھی اپنے "انوکھے ٹوٹکوں" اور متنازعہ بیانات کے باعث میڈیا میں ایک منتازعہ شخصیت سمجھی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے سنہ 2012ء کے پارلیمانی انتخابات میں بھی قسمت آزمائی کی تھی لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی ہے۔ اپنے ملک میں انتخابات میں ناکامی کے بعد اب وہ اقوام عالم کے طبی،نفسیاتی اور سماجی مسائل کا حل نکالنے نکلی ہیں۔