.

یمن: پہلا گرل کیفے، خواتین کیلیے گھر سے باہر گھر

چائے، کافی، لائبریری، انٹر نیٹ کی سہولت اور خواتین کا سماجی مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں خواتین کی ضروریات کا ادراک اور اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے گرلز کیفے کے نام سے سے الگ ایک کیفے قائم کیا گیا ہے۔ کیفے کی سربراہ بھی ایک خا تون تغرید علی ہیں جو اس کیفے کے ذریعے صنعا کی رہنے والی لڑکیوں اور خواتین کو ایک بہتر ماحول میں سہولت اور آسائش بہم پہنچانا چاہتی ہیں۔

تغرید علی کا کہنا ہے '' شہر میں موجود دوسرے کیفے مخلوط ہیں، ان مخلوط کیفیز میں خواتین کیلیے اگر الگ جگہ بھی مختص کی جاتی ہے تو وہ بہت محدود اور برائے نام ہوتی ہے، میں نے اسی وجہ سے خواتین کے الگ کیفے بنانے کا فیصلہ کیا۔''

ابتدائی طور پر خواتین کے بیٹھنے اٹھنے، چائے کافی پینے کی اس جگہ کو ہر حوالے سے اچھا ریسپانس مل رہا ہے۔ صنعا کی رہائیشی خاتون ذکری الواحدی نے اس منفرد نوعیت کے کیفے کے بارے میں کہا '' یہ ایک خوبصورت جگہ ہے، اس سے ہمیں بہت سہولت فراہم ہو گئی ہے، یہاں گھر کی طرح کا نجی ماحول بھی میسر ہےاور عافیت۔''

ذکری الواحدی نے مزید کہا اس کیفے میں خواتین کے ذوق مطالعہ اور دلچسپیوں کیلیے ایک چھوٹی لائبریری بھی قائم کی گئی ہے، تیار کھانے اور بہتر خدمات میسر ہیں۔''

خواتین کیلیے بنائی گئی چھوٹی لائبریری میں انٹرنیٹ کی سہولت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جہاں خواتین اپنی ای میلز چیک کر سکتی ہیں اور سوشل میڈیا تک رسائی بھی ممکن بنا سکتی ہیں۔

واضح رہے ایک عالمی سروے کے مطابق یمن کو خواتین کے حوالے سے عرب دنیا میں اچھا ملک نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس سروے کے مطابق خواتین کی صحت اور اور ان کے خلاف تشدد سے لیکر برتے جانے والے امتیاز ہر حوالے یمن کے حالات دگرگوں ہیں۔ ابلاغیات کی پروفیسر صباح الخاشانی کے مطابق اس کیفے کے قیام سے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بھی کمی آئے گی۔''

ایک اور یمنی خاتون نے کہا اس کیفے کی صورت میں ہمیں ایک ایسا پلیٹ فارم حاصل ہو گیا ہے، جس کے ذریعے سماجی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ قریب ہونے کا موقع ملے گا۔''

اہم بات یہ ہے کہ اس کیفے میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین سے ملاقات کرنے اور ان سے بات چیت کا موقع ہوتا ہے۔ کالجوں اور جامعات کی طالبات ، معلمات، سماجی طور پر متحرک خواتین سبھی اس کیفے کی ویزیٹر ہیں۔