.

یمن کی وحدت کے خلاف سازش کامیاب نہیں ہو گی

علیحدگی پسندوں کی ہفتے کے احتجاجی اپیل پر صدر کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں کی اپیل پر ہونے والے مظاہروں کے بعد یمن کے صدرمنصور ہادی نے ان مظاہروں کو ملکی وحدت کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ان کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

جنوبی یمن کی علیحدگی چاہنے والوں کو شکایت ہے کہ انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی شکایت کے باعث انہوں نے ملک جاری قومی مکالمے سے بھی خود کو الگ کر لیا ہے۔

علیحدگی پسندوں نے اپنے مطالبات کے حق میں ہفتے کے روز جنوبی یمن کے بڑے شہر عدن میں ایک ریلی کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے جنوبی اور شمالی یمن 1990 میں متحد ہوئے تھے۔ لیکن علیحدگی کا مطالبہ قومی مکالمے کیلیے ایک دھچکے کا باٰعث ہے۔ جنوبی یمن کے لوگ وسیع تر خود مختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یمن میں قومی مکالمہ اقوام متحدہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے، اس مکالماتی عمل میں قریبی خلیجی ممالک بھی موجود ہیں۔ اسی کے نتیجے میں صدر علی عبداللہ صالح 33 سالہ حکومت کے بعد 2012 ٘ میں اقتدار سے الگ ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔

یمن کے صدر ہادی نے ملک کی تقسیم کے سوال کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے ملکی وحدت کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔

صدر کا کہنا ہے '' میں کسی کو یہ اجازت نہیں دوں گا کہ وہ اس مطالبے کی تکرار کرے اور اس مطالبے کو اٹھائے۔''