.

القاعدہ سے وابستہ گروپ کا مغربی کنارے میں قدم جمانے کا دعویٰ

مجلس شوریٰ المجاہدین کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تین کارکنان کی ''شہادت'' کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے میں القاعدہ سے وابستہ ایک گروپ نے گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنے تین جہادی کارکنوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔

القاعدہ سے مبینہ طور پر وابستہ اس گروپ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی کارروائی میں مارے گئے اس کے کارکنان تھے اور ان کی شہادت مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اس کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔مغربی کنارے کی حکمراں فلسطینی اتھارٹی نے گذشتہ منگل کو اس امر کی تردید کی تھی کہ مقتولین القاعدہ سے تعلق رکھتے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ تنظیم مجلس شوریٰ المجاہدین ایک عرصے سے مغربی کنارے میں قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے۔اس تنظیم نے اسلام پسندوں کے ویب فورم پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''اللہ کے فضل سے عالمی جہادی نظریہ مغربی کنارے میں پہنچ گیا ہے اور اس نے مخالفانہ کارروائیوں کے باوجود وہاں قدم جما لیے ہیں''۔

اس طرح کے گروپوں کو غزہ کی پٹی کے علاقے میں کچھ پذیرائی حاصل ہے جہاں فلسطینی جماعت حماس کی حکومت ہے لیکن مغربی کنارے میں پہلی مرتبہ القاعدہ کے حامی عالمی جہادیوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس تنظیم کا واقعی القاعدہ سے کوئی تعلق ہے یا محض جہاد اور مجاہدین کے الفاظ کی بنا پر اس کا القاعدہ سے تعلق جوڑا جارہا ہے۔

اسرائیلی عہدے داروں نے گذشتہ منگل کو صہیونی فوجیوں کی مغربی کنارے میں ایک کارروائی میں مارے گئے تین فلسطینیوں کا القاعدہ سے ناتا جوڑا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انھوں نے ان پر فائرنگ کردی تھی اور پھر جوابی کارروائی میں وہ مارے گئے تھے۔

تاہم فلسطینی اتھارٹی کے تحت سکیورٹی فورسز کے ترجمان عدنان دمیری کا کہنا ہے کہ وہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں کی موجودگی سے آگاہ نہیں ہیں اور فلسطینی تحقیقات کار گذشتہ ہفتے پیش آئے واقعہ کی تفتیش کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر محمود عباس کے تحت سکیورٹی فورسز مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فورسز کے ساتھ تعاون کرتی رہتی ہیں جس پر بہت سے فلسطینی نالاں ہیں اور وہ اسے اتھارٹی کی دوغلی پالیسی قراردیتے ہیں جو ایک طرف تو صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کو مروا رہی ہے اور دوسری جانب وہ اسرائیلی ریاست سے تنازعے کے حل کے لیے امریکا کی ثالثی میں مذاکرات بھی کررہی ہے۔

مجلس شوریٰ المجاہدین نے انٹرنیٹ پر جاری کردہ بیان میں دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے امن کوششوں کی مذمت کی ہے اور اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ''ہم ہر مخلص شخص پر زوردیں گے کہ وہ ''مذاکرات'' سے قطع تعلقی کرلے۔ہم شاتم یہودیوں اور ان سے تعاون کرنے والے منافقین کی مذہب پر جارحیت کے خلاف لڑائی کے لیے سنجیدہ ہیں''۔