.

عراق:نومبر میں تشدد کے واقعات میں 950 ہلاکتیں

بعقوبہ میں جنازے کے شرکاء پر خودکش بم حملہ ،12 ہلاک ،25 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ماہ نومبر میں تشدد کے واقعات میں قریباً ساڑھے نو سوافراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

عراق کی صحت ،داخلہ اور دفاع کی وزارتوں کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ ماہ کے دوران خودکش بم حملوں ،بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں 948 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں 852 عام شہری ،53 پولیس اہلکار اور 43 فوجی ہیں۔

درایں اثناء عراق کے شمالی شہر بعقوبہ میں قبرستان میں ایک جنازے پر خودکش بم حملے کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے ہیں،یہ جنازہ القاعدہ مخالف سنی ملیشیا صحوہ کے ایک رکن مظہرالشلال العراقی کا تھا جو گذشتہ روز شہر میں اپنے گھر کے باہر بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔

گذشتہ جمعہ کو عراق کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں پچاس سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔دہشت گردوں نے عراق کے سنی اکثریتی علاقوں بغداد کے نواح کے علاوہ وسطی اور شمالی صوبوں دیالا ،نینویٰ اور صلاح الدین اور کرکوک شہر میں شہریوں کو بم حملوں اور فائرنگ میں نشانہ بنایا تھا۔

واضح رہے کہ عراق میں اس سال اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں چھے ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔2008ء میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ جنگ کے بعد اس ملک میں ایک ماہ میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

عراقی حکام ملک میں القاعدہ کے دوبارہ احیاء اور اس کے جنگجوؤں کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔القاعدہ کے جنگجوؤں کو پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی سے بھی تقویت ملی ہے اور انھوں نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔

لیکن سفارت کاروں ،تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت بدامنی کی حقیقی وجوہ کو دور کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔خاص طور پر وہ شیعہ حکام کے اہل سنت سے ناروا سلوک سے متعلق شکایات پر کوئی کان نہیں دھر رہی ہے۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے اپنے حالیہ دورۂ امریکا میں اوباما انتظامیہ سے سراغرسانی کے تبادلے اور جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے بروقت جدید ہتھیار مہیا کرنے کی اپیل کی تھی۔

فرانس نے گذشتہ سوموار کو اس اپیل کے جواب میں عراق میں جاری بدامنی اور تشدد کے واقعات پر قابو پانے کے لیے ہتھیاروں ،تربیت اور انٹیلی جنس کے شعبے میں تعاون کی پیش کش کی تھی۔اس سے پہلے ترکی بھی عراق میں جنگ پسندی پر قابو پانے اور قیام امن کےلیے اپنی مدد کی پیش کش کرچکا ہے۔