.

مصری فورسز نے میدان التحریر میں اخوانی طلبہ کی ریلی منتشر کردی

مظاہرین اشک آور گیس کے بعد بھاگ کھڑے ہوئے،سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مشہور میدان التحریر میں سکیورٹی فورسز نے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے اسلام پسند طلبہ کی ریلی بزور طاقت منتشر کردی ہے اور مظاہرین پر اشک آور گیس کے بھاری مقدار میں گولے پھینکے ہیں جس کے بعد وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔

العربیہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے کم سے کم دوہزار طلبہ برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے میدان التحریر میں داخل ہوئے تھے۔وہ حکومت سے ان کی بحالی کا مطالبہ کررہے تھے۔

طلبہ مظاہرین نے پولیس کی ایک کار نذرآتش کردی ہے اور ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔حکومت نے انھیں میدان التحریر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے فوج کو بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ تعینات کیا تھا اور جونہی وہ وہاں پہنچے تو پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اندھا دھند اشک آور گیس کے گولے پھینکنے شروع کردیے جس کے بعد مظاہرہ کرنے والے طلبہ بھاگ کھڑے ہوئے۔

میدان التحریر میں قریباً ایک ماہ کے بعد یہ پہلا مظاہرہ ہے۔مصر کی عبوری حکومت نے پولیس کی پیشگی اجازت کے بغیر ریلیوں اور جلسے،جلوسوں پر پابندی لگانے کے لیے گذشتہ اتوار کو ایک متنازعہ قانون جاری کیا تھا لیکن اخوان المسلمون اور اس کے حامی طلبہ اس قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے احتجاجی جلسے جلوس منعقد کررہے ہیں کیونکہ وہ مسلح افواج کے تحت عبوری حکومت اور اس کے جاری کردہ قوانین کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل اس متنازعہ قانون کے اجراء کے بعد سے خود حکومت کے حامیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے اور پیشگی اجازت کے بغیر اس متنازعہ قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے والے متعدد لبرل اور جمہوریت پسند نوجوان کارکنان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

درایں اثناء مصری حکومت نے اتوار کو غیرمجاز مظاہرے کے الزام میں گرفتار کیے گئے ایک معروف سیکولر کارکن احمد ماہر کو رہا کردیا ہے اور دوسرے کی حراستی مدت میں توسیع کردی ہے۔

احمد ماہر سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک 6 اپریل کے بانی ہیں۔ان کی اس تحریک نے سابق صدر کے خلاف مظاہروں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ماہر ہفتے کے روز خود قاہرہ کی ایک عدالت میں پیش ہوگئے تھے اور انھوں نے خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا تھا۔

سابق صدر کے خلاف احتجاج میں پیش پیش دوسرے معروف سیکولر کارکن علا عبدالفتاح کو گذشتہ جمعرات کو فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل سے متعلق نئے مجوزہ آئین میں وضع کردہ متنازعہ قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا،انھیں رہا نہیں کیا گیا اور ان کی حراستی مدت میں پندرہ دن کی توسیع کردی گئی ہے۔ان پر ایک پولیس افسر کو تشدد کا نشانہ بنانے ،شاہراہوں کو توڑنے اور مظاہرین کو بلووں پر اُکسانے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔