.

مصر:فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل،متنازعہ آئینی دفعہ منظور

نئے دستور میں شریعت قانون سازی کا مآخذ ہوگی،247 دفعات کی باری باری منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دستور ساز پینل نے لبرل گروپوں ،حکومت مخالفین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کے باوجود فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل سے متعلق متنازعہ دفعہ کو برقرار رکھا ہے اور اس میں ترمیم نہیں کی۔

مصر کے نئے دستور کی ترتیب وتدوین کا کام کرنے والے پچاس ارکان کے پینل میں سے اکتالیس نے اس متنازعہ دفعہ کے حق میں ووٹ دیا ہے۔یہ پینل دستور میں شامل تمام 247 دفعات کی ایک ایک کرکے منظوری دے رہا ہے۔ہفتے کے روز اس نے 138 دفعات کی منظوری دی تھی۔

ان دفعات میں سے ایک میں کہا گیا ہے کہ اسلامی شریعت قانون سازی کا بنیادی مآخذ ہوگی۔اس کے علاوہ منظور کردہ قابل ذکر دفعہ مذہب کی بنیاد پر جماعتوں کے قیام یا مذہبی بنیاد پر جماعتوں کی تشکیل پر پابندی سے متعلق ہے۔

اتوار کو دستور ساز پینل دو اہم دفعات 204 اور 234 پر غور کررہا ہے۔یہ دونوں دفعات مصر کی طاقتور فوج سے متعلق ہیں۔آرٹیکل (دفعہ) 204 میں کہا گیا ہے ''کسی شہری کا فوجی جج ٹرائل نہیں کرسکتے۔الاّ یہ کہ وہ مسلح افواج ،فوجی تنصیبات اور فوجی اہلکاروں پر براہ راست حملوں میں ملوث ہو اور ایسے افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جا سکیں گے''۔

اس دفعہ کی مصر کی تاریخ کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش سیکولر کارکنان بھی مخالفت کررہے ہیں اور وہ کل تک جس موجودہ عبوری حکومت اور مسلح افواج کی حمایت کررہے تھے،آج وہ اسی کے مدمقابل کھڑے ہیں اور ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

ان کے علاوہ سیکولر فن کاروں کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کو مظاہرین ،صحافیوں اور حکومت مخالفین کو دبانے کے لیے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔جمہوریت پسندوں اور انسانی حقوق کے علمبردار کارکنوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ آئین فوج کی طاقت اور مراعات کے خاتمے میں ناکام رہا ہے۔

دفعہ 234 میں کہا گیا ہے کہ ملک کے وزیردفاع کو مسلح افواج کی سپریم کونسل کے ساتھ مشاورت کے بعد مقرر کیا جائے گا۔البتہ دستور ساز پینل کے ترجمان محمد سلماوی کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کا صرف پہلی دو صدارتی مدتوں کے دوران ہی اطلاق ہوگا۔مجوزہ آئین کے مطابق فوجی بجٹ کی سول حکومت سکروٹنی نہیں کرسکے گی۔

مثبت ردعمل

مصر کے نئے مجوزہ آئین میں فوج کو سیاست میں کردار دینے سے متعلق ان دفعات کے باوجود مصری میڈیا کا اس کے بارے میں ردعمل عمومی طور پر مثبت رہا ہے۔

آزاد روزنامے المصری الیوم نے اپنی اتوار کی اشاعت میں یہ شہ سرخی جمائی ہے:''آئین منظوری کی جانب گامزن''۔روزنامہ الوطن کی شہ سرخی یہ تھی:''مستقبل کے آئین کے لیے مکمل ووٹ''۔

اس دستور پر مصر کی عبوری حکومت کے موعودہ ''جمہوری انتقال اقتدار'' کے لیے وضع کردہ نقشہ راہ کے تحت آیندہ سال کے اوائل میں عوامی ریفرینڈم ہوگا اور اس کی منظوری کی صورت میں 2014ء کے وسط تک ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ مصر کی عبوری حکومت نے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے دورحکومت میں وضع کردہ آئین کو معطل کردیا تھا۔اس آئین کو ایک سو ارکان پر مشتمل پینل نے مرتب کیا تھا لیکن اس میں اسلام پسندوں کو بالادستی حاصل تھی۔

موجودہ دستور ساز پینل میں سول سوسائٹی ،سیاسی جماعتوں ،فوج اور پولیس جیسے اداروں اور قبطی چرچ کو نمائندگی دی گئی ہے۔اس میں صرف دواسلام پسند شامل ہیں مگر ان میں سے کسی کا بھی سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمون سے تعلق نہیں ہے حالانکہ اس جماعت نے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی فروری 2011ء میں رخصتی کے بعد ملک میں ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔